دنیا
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی آبادیوں کے لئے 2.3 بلین ڈالر کا معاہدہ کر لیا
معاہدہ 12,000 نئے مکانات اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر مشتمل ہے اور مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد کاریوں کی توسیع میں تیز رفتار اضافہ کرے گا۔
اسرائیل نے مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی آبادیوں کے لئے 2.3 بلین ڈالر کا معاہدہ کر لیا
اسرائیلی افواج مقبوضہ مغربی کنارے، فلسطین میں بلڈوزر اور بھاری مشینری کے ذریعے ایک فلسطینی کا گھر مسمار کرتے ہوئے، 13 جولائی 2026۔ / َAA

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے 8.5 ارب شیکل  تقریباً2.3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے  ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 2.3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اور 12,000 نئی رہائشی عمارتوں کی تعمیر اور بڑے پیمانے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے   کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

اسرائیل کے چینل 14 نے اس معاہدے کو غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور "خطے کا نقشہ بدلنے" کے زیرِمقصد  اٹھایا گیا ایک "بہت بڑا قدم" قرار دیا ہے۔

اس معاہدے پر ایک سرکاری تقریب کے دوران دستخط کیے گئے ہیں۔ تقریب میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیرِ خزانہ بیزالیل سموٹریچ، اسرائیل لینڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل یہودا الیاہو اور شمالی مغربی کنارے میں متعدد اسرائیلی بستیوں کی نگرانی کرنے والی شومرون ریجنل کونسل کے سربراہ یوسی ڈاگن نے شرکت کی۔

خبر کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے عمل اور ان کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری کو "نمایاں رفتار" فراہم کرے گا۔

اسرائیل انسدادِ آبادکاری نگرانی تنظیم 'پیس ناو' کے مطابق، مقبوضہ مشرقی القدس کی اسرائیلی بستیوں میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افراد مقیم ہیں جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں بھی تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی آبادکار موجود ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی آبادکار سمجھا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ متعدد دفعہ  مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کے بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی  ہونے کی توثیق کی  اور خبردار کیا ہے کہ یہ دو ریاستی حل کی امیدوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

فلسطینی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مشرقی القدس مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف ان بین الاقوامی قراردادوں پر مبنی ہے جو اسرائیل کے 1967 کے قبضے اور 1980 میں شہر کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔

دریافت کیجیے
ایران کی معاشی مشکلات میں اضافہ، اسرائیل-امریکہ کی جنگ نے کارخانوں کو نقصان پہنچایا
جنرل برہان: سوڈان کی فوج 'حقیقی امن' کے لیے تیار ہے، آرایس ایف ہر گز اقتدار پر نہیں آ سکتی
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
ہرمز کو کسی ٹویٹ، طیارے کیریئر یا انتخابی تقریر سے قبضے میں نہیں لیا جا سکتا' — ایران
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا خطرناک زلزلہ، امدادی کارروائیاں جاری
ترکیہ نے یومِ آزادی کے موقع پر 'دوست اور برادر ملک' پاکستان کو مبارکباد دی
نیپال،شدید بارشوں کی تباہی ،5 افراد ہلاک 8 لا پتہ
روس اور یوکرین کے درمیان فوجی نعشوں کا تبادلہ
مشرقی جاپان میں شدید بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک
"جشنِ آزادی پاکستان" اسلام آباد میں آتشبازی کا شاندار مظاہرہ
امن کی تلاش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:شہباز شریف
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز