اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے 8.5 ارب شیکل تقریباً2.3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 2.3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اور 12,000 نئی رہائشی عمارتوں کی تعمیر اور بڑے پیمانے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
اسرائیل کے چینل 14 نے اس معاہدے کو غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور "خطے کا نقشہ بدلنے" کے زیرِمقصد اٹھایا گیا ایک "بہت بڑا قدم" قرار دیا ہے۔
اس معاہدے پر ایک سرکاری تقریب کے دوران دستخط کیے گئے ہیں۔ تقریب میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیرِ خزانہ بیزالیل سموٹریچ، اسرائیل لینڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل یہودا الیاہو اور شمالی مغربی کنارے میں متعدد اسرائیلی بستیوں کی نگرانی کرنے والی شومرون ریجنل کونسل کے سربراہ یوسی ڈاگن نے شرکت کی۔
خبر کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے عمل اور ان کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری کو "نمایاں رفتار" فراہم کرے گا۔
اسرائیل انسدادِ آبادکاری نگرانی تنظیم 'پیس ناو' کے مطابق، مقبوضہ مشرقی القدس کی اسرائیلی بستیوں میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افراد مقیم ہیں جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں بھی تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی آبادکار موجود ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی آبادکار سمجھا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ متعدد دفعہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کے بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہونے کی توثیق کی اور خبردار کیا ہے کہ یہ دو ریاستی حل کی امیدوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
فلسطینی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مشرقی القدس مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف ان بین الاقوامی قراردادوں پر مبنی ہے جو اسرائیل کے 1967 کے قبضے اور 1980 میں شہر کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔




















