مشرق وسطی
4 منٹ پڑھنے
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
افسران کا کہنا ہے کہ تہران جنگ، پابندیوں اور امریکی بحری بلاک ایڈ کے درمیان قومی اتحاد میں شمولیت کی غرض سے 600,000 سے زیادہ لوگوں نے فوجی تربیت کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
صدر مسعود پزیشکیان، فوجی کمانڈرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے مارچ کا مشاہدہ کیا۔ / AP

لاکھوں  ایرانیوں نے جمعہ کو حکومت کے زیرِ اہتمام مظاہرے میں شرکت کی، جو مہینوں کی جنگ کے بعد اس نوعیت کا  عظیم ترین اجتماع تھا، انہوں نے ہتھیار اٹھانے کی آمادگی کا عندیہ دیا ۔ یہ   امریکہ اور اسرائیل کے فروری میں ایران پر حملے کے بعد سب سے بڑی ریلی تھی۔

حکومت ِ ایران نے، امریکی بحری محاصرے اور واشنگٹن کی نئی پابندیوں کے تحت مزید بگڑ نے والی معیشت  کہ  جن  کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا  ہے،  کے باوجود  عوام کو ایک جگہ جمع کرنے اور قومی یکجہتی پر زور دینے کی کوشش کی ہے۔۔

محدود فوجی تربیت لینے اور "جان فدائے ایران"کے نام سے جانی جانے والی ایک مہم کے تحت ملک کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہونے والے  رضا کاروں کی تعداد  کا قطعی تعین نہیں ہو سکا۔

رضاکار وسطی تہران سے جنگی وردیوں میں مارچ کرتے ہوئے اور پرچم اٹھائے نظر آئے، جبکہ تماشائیوں نے  تالیوں اور نعرہ بازی سے ان  کے حوصلے بلند کیے ۔

سرکاری میڈیا  کئی دنوں  سے ایرانیوں کو اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا  تھا اور اعلان کیا تھا کہ  رائفل  چلانے کی تربیت جلد شروع ہو گی۔ یہ رضاکار پاسدارانِ انقلاب اسلامی اور اس کی رضاکارانہ بسیج فورس کے ساتھ مل کر  ملکی تحفظ کے ایک اضافی  یونٹ کو تشکیل دیں گے۔

تہران کے IRGC کے سربراہ جنرل حسن حسن زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن سے کہا کہ شرکت کے لیے چھے لاکھ سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے اور توقع ہے کہ ایک ملین سے زائد لوگ تربیت حاصل کریں گے۔ جمعہ کی صبح  سرکاری ٹی وی نے  اندازہ لگایا کہ تین لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر ہیں۔

ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں

بسیج کے نئے سربراہ حسین طائب نے کہا کہ یہ رضاکار 'مکمل دفاع' کے لیے تیار ہوں گے اور مشابہ اجتماعات  عنقریب دوسرے شہروں میں بھی منعقد کیے جائیں گے۔

طائب نے کہا کہ تربیت یافتہ افراد ایران کے دشمنوں کے لیے  ایک "ڈراونا خواب بن جائیں گے" جب کہ صدر مسعود پزشکیان، فوجی کمانڈرز اور دیگر سینیئر حکام  نے اس مارچ  پاسٹ کا معائنہ کیا۔

کچھ شرکاء نے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو  زمین تلے مسلا، جبکہ دیگر نے" امریکہ مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد"کے نعرے لگائے۔

اپنے شوہر اور ننھے بچے کے ساتھ مظاہرے میں شریک 24 سالہ مرزیہ آفاقی نے کہا کہ"میں یہاں ٹرمپ کو بتانے آئی ہوں کہ ہم ایرانی اپنی دھرتی کے خلاف ان کے دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔

تاریخ میں کسی نے ایران پر حملہ کر کے وہاں مستقل قیام نہیں کیا

یہ ریلی ایران کو فوجی سازوسامان کی نمائش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی رہی۔ ہوائی فائرنگ بیٹریاں نمائش کے لیے رکھی گئیں، جبکہ  پاسدارانِ انقلاب کے وومن ونگ کی اراکین ٹرکوں پر نصب مشین گنز کے پاس بیٹھی دکھائی دیں۔

IRGC نے ایسے ڈرونز بھی دکھائے جو  آبنائے ہرمز  میں جہازوں کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیے گئے ہیں اور جن کے باعث خلیجی تیل اور قدرتی گیس کی عالمی منڈیوں تک رسد شدید متاثر ہوئی۔

جمعے کے واقعات نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کی قیادت کے اندر سخت رویّہ رکھنے والے عناصر مستقبل میں حکومت کے خلاف مظاہروں کو دبانے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔

جنوری میں، جنگ سے کچھ وقت قبل، ایران نے اپنی تاریخ کے کچھ بڑے ملک گیر مظاہروں کا مشاہدہ کیا۔ یہ مظاہرے ابتدا میں کمزور معیشت کے خلاف شروع ہوئے لیکن بعد میں وسیع تر شکایات کا دائرہ اختیار کر گئے۔

کارکنوں نے کہا کہ بعد کے کریک ڈاؤن میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ  لاکھوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔

حکومتی عہدیداروں نے مئی میں کہا تھا کہ ایران کی کل آبادی جسے تقریباً 90 ملین مانا جاتا ہے، اس میں سے 30 ملین سے زائد افراد نے آن لائن فارم یا عوامی اجتماعات کے ذریعے اس مہم میں رضاکارانہ شمولیت کی درخواست دی تھی۔ اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔

 

دریافت کیجیے
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے
"دینے کےلیے کچھ نہیں بچا"میں فٹ بال چھوڑ رہا ہوں:میسی
لاس اینجلس میں ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک
حماس کی رفح بریگیڈ کا کمانڈر مارا گیا ہے:اسرائیل
امریکہ اور شام کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر مذاکرات
مکہ پر حملے کی کوشش،او آئی سی کی مذمت