روس کےصدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔
پوتن نے کئی ہفتوں کے بعد کل بروز منگل جنگ کے حوالے سے اپنی مفّصل ترین گفتگو میں روس کے اندر کیے گئے یوکرینی حملوں سے نقصان پہنچنے کا اعتراف کیا اور کہا ہے کہ خاص طور پر ڈرون ایک بڑا مسئلہ بن رہے ہیں۔
صحافیوں سے بات چیت میں پوتن نے محاذِ جنگ میں روس کی پیش قدمی پر زور دیا اور کہا ہے کہ ’’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ دشمن آخرکار ٹوٹ جائے گا۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کب ہوگا۔
انہوں نے ان افواہوں کو بھی' کہ روس کو نئی فوجی بھرتی پر مجبور ہونا پڑے گا'ہرزہ سرائی قرار دیا ہے۔
پوتن نے دعویٰ کیا ہےکہ روسی فوجیوں نے اگست کے دوران یوکرین کے مشرقی علاقے دونیتسک میں 270 مربع کلومیٹر کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیاہے اور بڑی تعداد میں یوکرینی فوجی محاصرے میں آ گئے ہیں۔
صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہےکہ روسی افواج سلوویانسک اور کراماتورسک شہروں کی جانب پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ماسکو کی افواج یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔
یوکرین کی جانب سے فضائی حدود سے متعلق انتباہ
واضح رہے کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس سے قبل فضائی کمپنیوں اور مسافروں کو خبردار کیا تھا کہ جنگ کے دوران روسی فضائی حدود ’’مکمل طور پر غیر محفوظ‘‘ رہیں گی اور وہاں یوکرینی ڈرونز کی بڑی تعداد موجود ہوگی۔
زیلنسکی نے رات گئےجاری کردہ خطاب میں کہا ہے کہ ’’آج ہم روسی فضائی حدود استعمال کرنے والی ہر فضائی کمپنی، ہر انشورنس کمپنی اور ان تمام افراد کو خبردار کرنا چاہتے ہیں جو اب بھی روس کے اہم ہوائی اڈوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ روسی فضائی حدود مکمل طور پر غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ یوکرین شہری ہوا بازی کو، حتیٰ کہ ایک بھی شہری طیارے کو، خطرے میں نہیں ڈال رہا۔ صرف روس کے آسمانوں میں اتنی بڑی تعداد میں ڈرون موجود ہوں گے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکے گا۔‘‘
پوتن نے زیلنسکی کی جانب سے فضائی کمپنیوں کو دی گئی اس وارننگ کو کہ یوکرینی ڈرون روسی فضائی حدود کو عملاً بند کر دیں گے، ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیا اور کہا ہےکہ اگر ایسا ہوا تو ماسکو اس کا جواب دینے کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لے گا۔
کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں پوتن نے کہا ہےکہ ’’دہشت گردوں‘‘ کے ساتھ مذاکرات کرنا ممکن نہیں ہے۔
تاہم پوتن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس عمل کو نئی رفتار دی جا سکے تو ماسکو یوکرین میں جاری تنازعےکے حل کے لیے ’’ٹھوس‘‘ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہے۔

















