مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
یمنی فوج نے مغربی ساحل پر حوثی محاذوں پر فضائی حملے کیے
لمخا، خالد کیمپ اور جبل النّار میں حوثی اڈوں پر  سلسلہ وار فضائی حملے کیے گئے۔
یمنی فوج نے مغربی ساحل پر حوثی محاذوں پر فضائی حملے کیے
یمنی فوج نے اگست 2026 میں تعز میں حوثیوں کے خلاف ڈرون اور توپ خانے سے حملے کیے۔ /تصویر: اے پی آرکائیو

یمنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے ملک کے مغربی ساحل کے علاقوں، بشمول شہر المخا کے اطراف کے علاقوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

یہ اعلان اس کے ایک دن بعد آیا جب فوج نے طعز-المخا شاہراہ کے گردونواح کو ایک فوجی زون قرار دیا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'X' پر جاری ایک بیان میں فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے شہریوں سے کہا کہ وہ طعز-المخا اور المخا-ذباب  شاہراہ  کے استعمال سے گریز کریں۔

النزیلی نے لکھا: 'شہریوں کو مزید اطلاع تک ممنوعہ سڑکوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔'

ریاستی نشریاتی ادارے الجمہوریہ ٹی وی نے بعد میں رپورٹ کیا کہ المخا، خالد کیمپ اور جبل النّار میں حوثی اڈوں پر  سلسلہ وار فضائی حملے کیے گئے۔

نشریاتی ادارے کے حوالے سے ذرائع نے کہا کہ ایک حملے میں المخا میں پانی و صفائی  منصوبے کی حامل ایک تنصیب کے  احاطے کے اندر بڑی تعداد میں حوثیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی ذرائع نے بھی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ فضائی حملوں نے المخا کے الحالی میں سوق الخرج کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا۔

الجمہوریہ ٹی وی نے علیحدہ طور پر رپورٹ کیا کہ ذُباب المندب کے ساحلی ضلع میں حوثی عسکری سازوسامان کو ہدفِ حملے بنایا گیا۔

حوثیوں کی پیش قدمی

حالیہ  ایام  میں یمن کے میدانِ جنگ کا نقشہ تبدیل ہوا ہے کیونکہ سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، جب جولائی کے اوائل میں برسوں کی نسبتا˓ خاموشی کے بعد جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اب حدیدہ صوبے کے تمام حصے پر قابض ہیں اور طعز کے مغربی حصے میں پیش قدمی کرتے ہوئے المخا شہر اور اس کے ریڈ سی پورٹ پر قبضہ کر چکے ہیں اور آبنائے  باب المندب کے نزدیک علاقوں تک پہنچ گئے ہیں، جو دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔

دوسری طرف سرکاری افواج نے سعودی سرحد کے قریب شمالی صوبہ الجوف میں پیش رفت کی ہے اور صوبائی دارالحکومت الحزم کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ مآرب، البیضاء اور الضالع کے محاذوں پر لڑائیاں جاری ہیں۔

یمن اپریل 2022 سے ایک نسبتاً سکون کی کیفیت میں تھا، جو کہ سرکاری افواج (سعودی قیادت والے اتحاد کی حمایت یافتہ) اور ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان تقریباً 12 سالہ جنگ کے بعد قائم ہوئی تھی؛ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء اور ملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

2023  کے آخر سے  حوثی علاقائی تنازعات میں بڑھ کر ملوث ہو گئے ہیں، انہوں نے اسرائیل اور بحیرہ احمر  میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں، جبکہ لڑائی کی تجدید نے یمن میں دوبارہ مکمل پیمانے پر تنازعے کے آغاز کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک