حکام کے مطابق روسی حملوں میں یوکرین کے مختلف شہروں میں 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ماسکو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب ہم نے 9 مئی کی فوجی پریڈ کے دن فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کے روز زاپوریا، کراماتورسک اوردنیپرو شہروں کو نشانہ بنانے والے حملے ، یوکرینی جنگ بندی کی پیشکش سے چند گھنٹے قبل ہوئے۔
زاپوریا میں ایک حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے، جسے زیلنسکی نے ' فوجی جواز سے مکمل طور پر عاری ' قرار دیا۔
ان حملوں میں کم از کم 70 افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں عہدہ داروں نے چند ہفتوں میں مہلک ترین حملے قرار دیا ہے۔
منگل کی رات گئے، حملوں میں دنیپرو پر چار شہری ، جبکہ کراماتورسک کے مرکز میں پانچ شہری ہلاک ہوئے۔
جنگ بندی کے درمیان حملے
تشدد کے درمیان، زیلنسکی کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق نصف شب سے نافذ العمل ہو گئی۔
یہ جنگ بندی روس کی جانب سے اعلان کردہ 8 تا9 مئی یومِ فتح کی جنگ بندی سے دو دن قبل شروع ہوئی۔
زیلنسکی نے 6 مئی کی جنگ بندی کا اعلان اس لیے کیا کہ 'انسانی جان کسی بھی یادگاری تقریب سے کہیں زیادہ قیمتی ہے'۔
انہوں نے روس کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ دوسری جنگ عظیم کی فتح کی یادگاری تقریبات کے دوران جنگ بندی ہو، کہا: 'ہمیں ہر دن خاموشی چاہیے۔۔۔ صرف چند گھنٹوں کے لیے "تقریبات" کے لیے نہیں'۔
جبکہ ماسکو نے 8-9 مئی کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا، روسی وزارتِ دفاع نے خبردار کیا کہ وہ سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے 'ضروری تمام' اقدامات کرے گی اور اگر تقریبات میں خلل ڈالا گیا تو 'بڑی' جوابی میزائل کارروائی ہو گی۔
یوکرین کے صدارتی دفتر کے کیریلو بودانووف نے منگل کو کہا کہ کیف کی جنگ بندی 'امن کی حقیقی خواہش' کی عکاس ہے۔
دریں اثنا، روس کی درخواست پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے فون پر بات کی تاکہ تعلقات اور جنگ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔






