غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیلی فوج نے جبالیہ کیمپ خالی کروا لیا
فلسطینیوں کی بڑی تعداد کا بے گھر ہونا، اسرائیلی فوج کے "جدعون کے رتھوں" کے حملے کا حصہ ہے، جس کا مقصد "زیرزمین اور اوپری بنیادی ڈھانچے میں فلسطینی جنگجوؤں کو واپس آنے سے روکنا" ہے، ہیبرو خبر سائٹ والا رپورٹ کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے جبالیہ کیمپ خالی کروا لیا
Israel has reportedly pushed Palestinians out of Gaza's Jabalia. / AFP

اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ سے 2,50,000 سے زائد فلسطینیوں کو نام نہاد "انسانی ہمدردی  زونوں" میں منتقل کر دیا ہے۔

اسرائیلی نیوز سائٹ 'والا' نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے  سیکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا  ہے کہ یہ وسیع  پیمانے کا جبری انخلاء  فوجی آپریشن "گیڈیون کے رَتھ "نامی آپریشن  کا حصہ ہے۔ اس جبری انخلاء کا مقصد فلسطینی جنگجوؤں کیزمینی اور  زیر زمین سیلوں کی طرف  واپسی کو  روکنا ہے۔

اگرچہ 'والا' نے "انسانی ہمدردی  زونوں" کے محّل وقوع  کی وضاحت نہیں کی، لیکن قبل ازیں  اسرائیل نے  خان یونس اور دیر البلح کے درمیان ساحلی علاقوں کو ان مقامات کے طور پر نامزد کیا تھا، جہاں وہ  مہینوں سے مہلک حملے کر کے  ہزاروں بے گھر فلسطینی مہاجرین کو قتل کر چُکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا  ہے کہ فوجی قبضہ کئی  مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔اسرائیل کا منصوبہ  "غزہ کی آبادی کو جنگی علاقوں سے مکمل طور پر نکال کر جنوبی علاقوں میں منتقل کرنا " ہے ۔لیکن اس وقت  قبضہ شدہ علاقوں پر مستقل فوجی قبضہ برقرار رکھا جائے گا۔

روزنامہ ہارٹز سمیت پورے اسرائیلی میڈیانے 22 مئی کو ایک منصوبے سے متعلق خبریں شائع کی تھیں  جس کے تحت اگلے دو ماہ میں غزہ کے 75 فیصد علاقے پر قبضہ کیا جائے گا۔

ترکیہ اناطولیہ خبر ایجنسی کے مطابق، بہت سے فلسطینی اسرائیلی فوج کے مہلک  حملوں میں تیزی لانے اور امداد کی رسائی پر پابندی لگانے کی  وجہ سے شمالی غزہ کے علاقوں سے غزہ شہر کے مغربی علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں ۔

قحط کا خطرہ

اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ فلسطینیوں نے، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل،  54,320 سے زائد فلسطینیوں کے قتل کا اندراج کیا ہے ۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، تقریباً 11,000 فلسطینیوں کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد غزہ کے حکام کی رپورٹ کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اندازے کے مطابق  یہ تعداد 200,000 کے قریب ہو سکتی ہے۔

امدادی اداروں نے غزہ کے 20 لاکھ سے زائد رباسیوں کے لیے قحط کے خطرے کا الارم دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ٹام فلیچر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی آبادی کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرنا جنگی جرم کے مترادف ہے اور محصور علاقے کی پوری آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔

ایک سخت بیان میں، اقوام متحدہ کے سابق انسانی حقوق کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے غزہ میں جاری ہولناکی کو نسل کشی قرار دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطین فرانسسکا البانیز کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا ہے کہ فلسطینی "نسل کشی کے خطرے" سے دوچار ہیں۔

گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

دریافت کیجیے
روسی حملوں میں ایک بچہ سمیت تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ