وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر اپنے معاونین کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک تہران امریکی فوجیوں کو ہلاک نہیں کرتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کو دوبارہ ہوا دینے کے حوالے سے ٹرمپ کی ہچکچاہٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی وسیع تر جنگ سے بچنے کے لیے ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہنے والی چھوٹی جھڑپوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
اس ہفتے، امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے شدید ترین جھڑپوں کا تبادلہ ہوا۔
ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون داغے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں پر جوابی حملے کیے۔
ایران نے اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے۔
اپریل کے اوائل میں ایک جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا تھا لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔
آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر اس تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کو شدید متاثر کیا ہے۔
تہران نے اس اہم تجارتی آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو محدود کر رکھا ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں پر سخت ناکہ بندی لاگو کی ہوئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ان باہمی حملوں کو مکمل جنگ کی طرف واپسی کے بجائے دفاعی اقدامات قرار دیا ہے۔
روبیو نے بدھ کے روز ایوانِ نمائندگان کی ایک سماعت میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایرانی اقدام کے جواب میں ہو رہی ہیں اگر وہ ان جہازوں پر گولی نہیں چلائیں گے تو ہم بھی نہیں چلائیں گے لیکن ہمیں جواب دینا ہو گا۔
تاہم، رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بار بار ہونے والے حملوں نے ٹرمپ پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور جنگ بندی کے طویل مدتی برقرار رہنے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کے بہت قریب ہیں جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا، ایران کے جوہری پروگرام اور ملک کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا خاتمہ کر دے گا۔














