سعودی عرب نے جمعہ کو اس بات کی تردید کی کہ اس نے اپنی فضائی حدود جارحانہ فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کی اجازت دی ہے، یہ اعلان امریکہ، اسرائیل اور ایران پر مشتمل جنگ سے جڑی علاقائی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔
ایک سعودی ذرائع نے براڈکاسٹر العربیہ کو بتایا کہ ریاض کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ "مملکت نے اپنے فضائی حیطے کا استعمال جارحانہ فوجی کارروائیوں کی حمایت کے لیے اجازت نہیں دی۔کچھ فریقین مشکوک وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کے موقف کی غلط تصویر کشی کرنے کے درپے ہیں۔"
یہ بیانات ،وال اسٹریٹ جرنل کی جمعرات کو شائع کردہ رپورٹ کہ" سعودی عرب اور کویت نےآبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شروع کردہ امریکی کارروائی کے بعد اپنے اڈوں اور فضائی حدود میں امریکی فوج کے استعمال پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں" کے بعد سامنے آئے ہیں
ہرمز کے لیے ایسکورٹ منصوبے
امریکی اور سعودی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ٹرمپ انتظامیہ ہرمز عبور کرنے والی تجارتی جہازوں کے لیے امریکی بحری اورفضائی تعاون کے ساتھ بحری ایسکورٹ آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ت ھی، بعد ازاں یہ مشن اس ہفتے کے آغاز میں عارضی طور پر مؤخر کیا گیا تھا۔
علاقائی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے خلیجی ممالک کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کیا اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز بند ہو گئی۔
8اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی نافذالعمل ہو گئی، حالانکہ اسلام آباد میں مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے ہتھیار بندی کی مدت میں توسیع کا اعلان کیا مگر اس کے لیے کوئی آخری تاریخ مقرر نہ کی۔
امریکہ نے 13 اپریل سےآبنائے ہرمز میں ایرانی سمندری آمد و رفت کو نشانہ بناتے ہوئے بحری محاصرے کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ امریکی فوج ہرمز میں رہنمائی کی آزادی بحال کرنے کے لیے شروع کیے گئے 'پروجیکٹ فریڈم' کو عارضی طور پر روکے گی، جبکہ امریکی محاصرہ 'مکمل طور پر برقرار رکھا جائے گا۔











