ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: یونان کا موقف افسوسناک ہے
یونان کا مؤقف "داخلی سیاسی مفادات کی خدمت کی کوشش" ہے اور ترکیہ اسے "افسوسناک" سمجھتا ہے: احمد یلدز
ترکیہ: یونان کا موقف افسوسناک ہے
فائل فوٹو: سفیر احمد یلدز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ / AA

ترکیہ نے کہا ہے کہ یونان کا موقف افسوسناک ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ترکیہ کے مستقل مندوب احمد یلدز نے ایک مراسلےمیں یونان کے "آبنائے ترک" کی اصطلاح کے استعمال پر اعتراض کو مسترد کر دیا اور کہا  ہےکہ یونان کا مؤقف "داخلی سیاسی مفادات کی خدمت کی کوشش" ہے اور ترکیہ اسے "افسوسناک" سمجھتا ہے۔

8 مئی کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹرس اور سلامتی کونسل کےٹرم چیئرمین فو کونگ کے نام ارسال کردہ مراسلے  میں احمد یلدز نے کہا  ہےکہ یونان نے 29 اپریل کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں جو اعتراض اٹھایا ہے اس نے " زیرِ بحث اہم موضوعات کی طرف سے توجہ ہٹا  کر اجلاس کے مقاصد کے ساتھ معاونت کی بجائے  داخلی سیاسی مفادات کی خدمت کی کوشش کی ہے"۔

خط میں یلدز نے کہا ہے کہ"ترکیہ، یونان کے بے بنیاد دعوؤں کو مکمل اور دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔ ایک عام جغرافیائی اصطلاح کو سیاسی رنگ دینے کی کوششیں تعمیری مکالمے، علاقائی استحکام یا 1936 کےمونٹریکس کنوینشن کی درست تفہیم میں کوئی مدد نہیں کرتیں"۔

سفیر نے وضاحت کی ہے کہ "ترک آبنائے" ایک مستند جغرافیائی اصطلاح ہے جو باسفورس اور ڈارڈانلز کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ دونوں  آبی گزرگاہیں ترکیہ کی خودمختاری میں ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ'ترک آبنائے' کی اصطلاح واضح، جغرافیائی لحاظ سے درست اور مونٹرو معاہدے کے جاری نفاذ کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے۔"

یلدز نے اس بات پر بھی زور دیا  ہےکہ "ترک آبنائے" کی اصطلاح بین الاقوامی دستاویزات میں مسلسل اور روایتی شکل میں  استعمال ہوتی رہی ہے۔ ان قراردادوں میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور نیٹو کی قراردادیں اور دستاویزات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ یونان کی جانب سے "ترک آبنائے" کے علاوہ کوئی اور اصطلاح مسلط کرنے کی کوشش صرف "تاریخی حسرتوں" سے ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایسی کوششیں ان آبی گزرگاہوں کی قانونی یا سیاسی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

یہ خط ، یونان کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں "بحری شعبے میں آبی گزرگاہوں کی سلامتی اور تحفظ" کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں احمد یلدز کے باسفورس  اور  ڈارڈینلزکو "ترک آبنائے" کہنے پر اعتراض کئے جانے کے بعد ارسال کیا گیا ہے۔

یونان نے سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی ایک اور وضاحت میں دعویٰ کیا ہے کہ "ترک آبنائے" کی اصطلاح 1936 کے مونٹرو معاہدے کے مطابق نہیں ہے۔

یونان کا مؤقف تھا کہ معاہدے میں صرف "آبنائے" کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
برطانیہ پر پابندی اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے:اسرائیلی وزرا
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشق شروع کر دیں
ترکیہ میں عجائب گھروں کی تعداد 2025 میں سالانہ 4.4 فیصد بڑھ کر 664 ہو گئی