بھارت اور پولینڈ نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹسک کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے بعد دفاع، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی کے شعبوں میں باہمی تعلقات مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مودی نے مذاکرات کے لیے اپنے پولش ہم منصب ڈونلڈ ٹسک کی میزبانی کی۔
مودی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو ’’گزشتہ دو برسوں کے دوران نئی رفتار ملی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دفاع، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی کے شعبوں میں باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مودی نے کہا ہے کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی حکمرانی کے اداروں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔‘‘
دوسری جانب، ڈونلڈ ٹسک نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’’ہم اپنی دوستی کی بنیاد اعتماد، مشترکہ اقدار اور تشدد کی مخالفت جیسے اصولوں پر استوار کر رہے ہیں۔‘‘
ٹسک اس وقت بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ ملک کے جنوبی شہر بنگلورو میں ملاقاتوں اور دیگر مصروفیات کے بعد جمعہ کو واپس چلے جائیں گے۔
بھارت اور پولینڈ کے درمیان 1954 میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ بعد ازاں، 2024 میں نریندر مودی کے دورۂ پولینڈ کے دوران دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو ’’اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کی سطح تک بڑھا دیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2010 میں 1.32 ارب ڈالر تھا، جو 2020 میں 107.9 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 2.73 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔




















