سیاست
3 منٹ پڑھنے
پینٹاگون نے کرنل مک کارمیک کو معطل کر دیا
پینٹاگون نے اسرائیل اور امریکہ کی 'اسرائیل پالیسی' پر تنقید کی وجہ سے اپنے کرنل کو معطل کر دیا
پینٹاگون نے کرنل مک کارمیک کو معطل کر دیا
FILE PHOTO: Pentagon ousts senior officer over anti-Israel posts / Reuters
19 جون 2025

امریکہ وزارتِ دفاع 'پینٹاگون' نے،  سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بار بار اسرائیل اور امریکہ کی 'اسرائیل پالیسی' پر تنقید  کرنے کی وجہ سے، اپنے ایک سینئر فوجی افسر کو معزول کر دیا ہے۔

 جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے جے 5 پلاننگ ڈائریکٹریٹ میں لیونٹ اور مصر کے برانچ چیف 'کرنل ناتھن مک کارمیک' کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسرائیل سے منسلک خبر رساں ادارے 'جیوش نیوز سنڈیکیٹ'  کے مطابق یہ فیصلہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹوں کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیاہے۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق"مغربی ممالک، ہولوکاسٹ کے جرم کے باعث، اسرائیل پر تنقید سے گریز کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن 'مک کارمیک' کی سوشل میڈیا پوسٹوں میں واشنگٹن کو اسرائیل کے "غلط رویے" کو شہ دینے کا قصوروار ٹھہرایا گیا  ہے"۔

مک کارمیک  نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو پر تنقید کی اور کہا ہے کہ "اسرائیل کے دہائیوں پر محیط اقدامات نے نسلی صفائی اور نسل کشی کے الزامات کو جنم دیا ہے" ۔

ان کی یہ تنقیدی پوسٹیں  محفوظ کر لی گئی ہیں  اورایک  تحقیقی افسر کو ان کے جائزے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

ایک پوسٹ میں 'مک کارمیک' نے نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کو "یہودی برتری کے حامی" قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ "فلسطینیوں کو علاقے سے نکالنا اور 'ارض اسرائیل'  کے نام سے مسنون کردہ علاقے کو  نسلی فلسطینیوں سے بالکل خالی کرنا چاہتے ہیں"۔

ایک اور پوسٹ میں مک کارمیک نے کہا  ہے کہ اسرائیل ،ہمارا 'بدترین اتحادی' ہے۔ ہمیں اس 'شراکت داری' سے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے لاکھوں لوگوں کی دشمنی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو رہا"۔

پینٹاگون کے ایک اہلکار نے  جاری کردہ بیان میں کہا ہے  کہ وزارتِ دفاع "اس صورتحال سے آگاہ ہے" اور "تحقیقات کر رہی ہے"۔

اہلکار نے مزید کہا  ہےکہ مک کارمیک "اپنی سروس پر بحال ہو گئے ہیں لیکن جب تک معاملے کی تحقیقات  مکمل نہیں ہو جاتیں  وہ جوائنٹ اسٹاف میں فرائض سرانجام نہیں دے سکیں گے"۔

اہلکار نے یہ بھی کہا  ہےکہ "ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا مواد جوائنٹ اسٹاف یا وزارتِ  دفاع کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا۔"

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا باعث بنا ہے اور کئی صارفین نے کہا ہے  کہ اگرچہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم اظہار رائے کی آزادی کی ضامن  ہے لیکن  معاملہ اسرائیل پر تنقید کا ہو تو یہ ترمیم کالعدم  ہو جاتی ہے۔

تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر پر تنقید کرنا  ایک عام بات ہے اور اس پر کوئی ردعمل نہیں ہوتا لیکن اسرائیل کے بارے میں تنقیدی  بیانات پیشہ ورانہ  بے دخلی جیسے نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق  یہ صورتحال واشنگٹن میں اسرائیل نواز لابی نیٹ ورکوں کے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔

دریافت کیجیے
لبنان پر تازہ اسرائیلی حملے،  20 افراد ہلاک اور 26 زخمی
شمالی کوریا: ہم، سیول-واشنگٹن فوجی مشقوں کا جواب دیں گے
سعودی عرب نے متعدد ایرانی ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
توانائی بحران زور پکڑ رہا ہے تو ایران کے پیٹرول کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے جاری ہیں
روس: اصفہان پر حملوں میں ہمارے قونصل خانے کو نقصان پہنچا ہے
یورپی یونین: مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا درجہ"ناقابلِ قبول" ہے
ٹرمپ انتظامیہ: برّی آپریشن پر غور کر رہی ہے
امریکہ-ایران جنگ کا نتیجہ، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
ہم، بین الاقوامی پیٹرول ذخائر کو کھولنے کی حمایت کرتے ہیں: ریوز
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:ایران
ایرانی پاسدارانِ انقلاب: 'جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے'
اسرائیل نے لبنانی مارونی کیتھولک پادری کو ہلاک کر دیا
امریکہ: افغانستان 'ناحق گرفتاریوں کا حامی ملک' ہے
ایردوان: ترکیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا 'کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں'
ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ ترکیہ نے ناکام بنادیا