ایرانی میڈیا نے جمعہ کو رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ایک اور ملاقات کی تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق، ملاقات کا مرکز تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری بالواسطہ رابطوں سے متعلق تجاویز کا جائزہ لینا تھا۔
جمعرات دیر گئے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی اِسنا نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغام رسانی جاری ہے اور فریم ورک معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم کچھ اختلافات ابھی حل طلب ہیں۔
اِسنا کے مطابق، نقوی، جو اس ہفتے دوسری بار تہران گئے، نے امریکی جانب کا ایک پیغام ایرانی حکام تک پہنچایا۔
اِسنا کے حوالے سے پاکستانی ذرائع نے کہا کہ اگر دونوں فریق تجویز کردہ فریم ورک کو حتمی شکل دے دیں تو پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایرران کا دورہ کریں گے۔
انادولو کی سابقہ رپورٹ میں شامل 14 نکاتی ایرانی تجویز کے تحت، تہران مستقل جنگ بندی کے بعد 30 روز کے اندر اپنے جوہری پروگرام پر علیحدہ مذاکرات چاہتا ہے، جن میں افزود شدہ یورینیم کے معاملات بھی شامل ہیں۔
تاہم واشنگٹن چاہتا ہے کہ جوہری مسئلہ کسی بھی مستقل جنگ بندی سے پہلے بحث کر کے 'حل' کیا جائے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیج کے امریکی حلیفوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے اور آبنائے ہرمز بند کر دی۔
پاکستانی ثالثی سے 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، مگر اسلام آباد میں بات چیت ایک پائیدار معاہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا جبکہ اس اسٹریٹجک آبی راستے کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے جہازوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی گئی۔













