سیاست
3 منٹ پڑھنے
روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا چوتھا تبادلہ
یوکرین: ہم نے روس سے قیدیوں کی ایک اور کھیپ اور 1,200 نامعلوم لاشیں وصول کی ہیں
روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا چوتھا تبادلہ
In this photo released by Russian Defence Ministry Press Service, Russian servicemen sit in a bus after returning from captivity by a POWs exchange. / AP
15 جون 2025

یوکرین اور روس نے ہفتے کے روز قیدیوں کا ایک اور تبادلہ کیا ہے جو کہ رواں  ہفتے کے دوران چوتھا تبادلہ تھا۔

 دونوں متحارب فریقوں نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ یہ تبادلہ رواں مہینے کے آغاز میں استنبول میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت کیا گیا ہے۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زلنسکی نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم اپنے لوگوں کو روسی قید سے نکالنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قیدیوں کا حالیہ تبادلہ ایک ہفتے کے دوران چوتھا تبادلہ ہے"۔

روس وزارت دفاع نے ٹیلیگرام سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "روس۔یوکرین معاہدوں کی رُو سے روسی فوجیوں کا ایک اور گروپ کیف حکومت کے زیر کنٹرول علاقے سے واپس لایا گیا ہے"۔

جنگی قیدیوں کے تبادلے کے ذمہ دار 'یوکرینی حکام' نے کہا ہے کہ استنبول معاہدے کی رُو سے ہمیں روس کی طرف سے 1,200 نامعلوم  افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں  جن کے بارے میں روس کا دعویٰ ہے کہ وہ "یوکرینی شہریوں اور فوجی اہلکاروں"کی لاشیں  ہیں ۔

یوکرین نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس نے روس کو کوئی لاش واپس کی ہے یا نہیں۔

زلنسکی کی جانب سے ٹیلیگرام پر شائع کی گئی تصاویر میں مختلف عمروں کے مرد دکھائے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تَر کے سر مُنڈے ہوئے تھے۔  وہ  کیموفلاج لباس میں تھے اور یوکرینی جھنڈوں میں لپٹے ہوئے تھے۔

قیدیوں میں سے کچھ زخمی تھے، کچھ بسوں سے اتر کر استقبال کرنے والوں کو گلے لگا رہے تھے، یا فون پر کسی سے بات کر رہے تھے، کبھی اپنے چہرے ڈھانپ رہے تھے یا مسکرا رہے تھے۔

ماسکو وزارت دفاع کے  جاری کردہ ویڈیو مناظر میں یونیفارم میں ملبوس روسی قیدی جھنڈے تھامے ہوئے تھے۔ وہ  تالیاں بجا رہے تھے اور روس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔کچھ نے اپنے مکّے ہوا میں بلند کر رکھے تھے۔

یہ تبادلہ ایسے وقت میں ہوا  ہےجب روس نے بار بار جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کیا اور محاذ پر اپنی جارحیت کو تیز کر دیا ہے۔جارحیت میں تیزی  خاص طور پر شمال مشرقی علاقے سومی میں دیکھی گئی ہے  جہاں روس  اپنے  علاقے 'کرسک' کی حفاظت کے لیے ایک "بفر زون" قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

زلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ سومی کی طرف  روسی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے اور کیف کی افواج نے ایک گاؤں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولودومیر زلنسکی کے مطابق روس، سومی آپریشن میں 53,000 افراد کا استعمال کر رہا ہے۔

دریافت کیجیے
سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے
چین اور ہسپانیہ، منتشر ہوتے عالمی نظام کے مقابل، مضبوط باہمی تعلقات کی تلاش میں
امریکی پابندیوں میں شامل چینی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
ہم پر حملوں میں ملوث 5 عرب ریاستیں معاوضہ ادا کریں:ایران
"ایندھن کا بحران" برقی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ
مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جائے: میرز
اسلام آباد میں جوہری مول تول: امریکہ کا مطالبہ 20 سال ایران کی پیشکش 5 سال
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں