امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ طے پانے والی تازہ اور 2 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے بعد کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا۔
ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "بہت مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے! خطیر رقم کمائی جائے گی۔ ایران دوبارہ تعمیرِ نو کا عمل شروع کر سکتا ہے۔ ہم ہر قسم کا سامان لادنے اور سب کچھ ٹھیک چلنے کی یقین دہانی کے لئے 'وہاں موجود رہیں گے'۔"
منگل کے روز ایران پر بمباری کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے فیصلے سے قبل، ٹرمپ نے ایران کو، آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لئے دوبارہ کھولنے اور معاہدہ کرنے کے لئے، منگل اور بدھ کی درمیانی رات 12 بجے تک کی مہلت دی اور وارننگ دی تھی کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے کئے جائیں گے ۔
امریکہ کے صدر نے اس لمحے کو "مشرقِ وسطیٰ کے سنہری دور" کی صلاحیت کا حامل لمحہ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششیں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حملوں میں ، اس وقت کے دینی لیڈر علی خامنہ ای سمیت، 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
جوابی کارروائی میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کئے جن میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور امریکی فوجی و مالیاتی اثاثوں کے میزبان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا ۔ علاوہ ازیں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا۔












