متحدہ عرب امارات نے ملک کی علاقائی حدود میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکے گئے ایک ڈرون طیارے پر مشتمل جارحانہ ایرانی حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
ابو ظہبی نے اس واقعے کو ایک خطرناک کشیدگی اور اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک کسی بھی صورت میں اپنی سلامتی اور خودمختاری کے لیے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جواب دینے کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزارت نے حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا اور تصادم کے خاتمے کی مکمل تعمیل پر زور دیا۔
وزارتِ خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں اردن پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کی انہیں ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا اور اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
ابو ظہبی نے اس سے قبل پیر کے روز ہی اعلان کیا تھا کہ فضائیہ نے ملک کی علاقائی حدود میں ایران کی طرف سے آتے ہوئے ایک ڈرون طیارے کو فضا میں ہی روک دیا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج ممکنہ خطرات کے خلاف اعلیٰ درجے کی تیاری کی حالت میں ہیں۔
وزارت نے بعد میں ایک الگ بیان میں ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ المنہاد ایئر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں "بے بنیاد" قرار دیا۔
یہ بیانات ایرانی فوج کے پیر کی صبح سویرے دیے گئے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر تعینات امریکی فوجیوں اور ہیلی کاپٹروں پر بارود سے لادے درجنوں ڈرون طیارے بھیجے گئے ہیں۔
امریکی افواج نے اتوار کے روز جزیرہ لارک پر ایران کے دو میزائل لانچر سسٹمز کو نشانہ بنایا تھا جولائی کے آخر کے بعد سے ایرانی سرزمین پر یہ پہلا امریکی حملہ تھا۔
اس آپریشن میں ان سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا تھا جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس حملے میں متعدد جنگجو اور شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں اور انہوں نے اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔


















