مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
کُشنر مصر کے بعد اسرائیل روانہ، نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ثالثوں اور ٹرمپ کی امن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روڈ میپ کی منظوری دینے اور اس کے نفاذ کے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کرنے پر مجبور کریں
کُشنر مصر کے بعد اسرائیل روانہ، نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے
جیرڈ کشنر

امریکی سفیر جیرڈ کشنر، اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے گئے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کے مقصد سے مصر میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد آج  نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔

یہ ملاقات حماس کی جانب سے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے آخری مرحلے کی منظوری دینے کے دو ہفتے بعد ہو رہی ہے۔

 دوسری طرف نسل پرست نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے منصوبے کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ کسی بھی معاہدے کو اس گروپ کے "حقیقی تخفیفِ اسلحہ"کو یقینی بنانا ہوگا۔

معاملے سے باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ کشنر نے اتوار کے روز مصر کے بحیرہ روم کے ساحلی شہر العلمین میں حماس کے نئے رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔

مذاکرات کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  ذرائع نے بتایا کہ کشنر نے حماس سے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا اور یہ پیغام پہنچایا کہ غزہ دوبارہ کبھی اسرائیل کے لیے دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ نے بعد میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ثالثوں اور ٹرمپ کی امن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روڈ میپ کی منظوری دینے اور اس کے نفاذ کے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کرنے پر مجبور کریں۔

میزبان مصر کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں خلیل الحیہ نظر نہیں آئے، جبکہ کشنر کو برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت  امن کمیٹی کے دیگر اراکین کے ساتھ ایک میز پر بیٹھے ہوئے دیکھا گیا۔

مصر کے علاوہ اہم ثالث ممالک قطر اور ترکیہ نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔

تین علاقائی ثالث ممالک اور پانچ مسلم ممالک  ترکیہ، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور انڈونیشیا  نے اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے منصوبے کو مسترد کیے جانے کی مذمت کی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی براہِ راست اور مکمل ذمہ داری اٹھاتا ہےاور اسرائیل کا یہ منفی رویہ ٹرمپ کی جامع کوششوں کو براہِ راست پٹری سے اتارنے کی دھمکی دیتا ہے۔

نیتن یاہو نے امن کمیٹی  کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف کی اس یقین دہانی کے باوجود امریکی منصوبے کی مخالفت کی تھی کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیل کو جنگ زدہ علاقے سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

 



 

دریافت کیجیے