روس اور یوکرین نے رات گئے ایک دوسرے پر حملے کیے، جس میں ماسکو نے دارالحکومت پر یوکرین کے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کی اطلاع دی جبکہ روسی افواج نے پورے یوکرین میں صنعتی، توانائی اور بحری اہداف کو نشانہ بنایا۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے ہفتے کے روز بتایا کہ روسی فضائی دفاعی یونٹس نے آدھی رات سے دارالحکومت کی طرف بڑھنے والے یوکرین کے 195 ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں ملبے کا معائنہ کر رہی ہیں۔
روس کی سول ایوی ایشن اتھارٹی، روزاویاتسیا نے بتایا کہ ماسکو کے ڈومودیڈوو اور ونوکووو ہوائی اڈوں نے پروازوں کا آپریشن معطل کر دیا ہے۔
روس کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس کی افواج نے یوکرینی اہداف پر رات گئے بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس میں کریوئی ریہ (Kryvyi Rih) میں ملک کا سب سے بڑا اسٹیل ورکس (فولاد کا کارخانہ) اور اوڈیسا کی بندرگاہ استعمال کرنے والے بحری جہاز شامل ہیں۔
کریوئی ریہ کا یہ پلانٹ، جو اسٹیل کی بڑی کمپنی آرسیلر متل کی ملکیت ہے، ستمبر میں روس کے بیلسٹک میزائل حملوں کے سلسلے کے بعد آپریشنز معطل کر چکا تھا۔
کمپنی نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
وزارت نے ژیتومیر میں ایک بجلی کے سب اسٹیشن اور زاپوریژیا میں ایک اور اسٹیل پلانٹ پر حملوں کی بھی اطلاع دی۔
بحیرہ اسود میں ایک مال بردار بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں ماسکو نے دعویٰ کیا کہ وہ اوڈیسا کے لیے فوجی سامان لے جا رہا تھا۔
بعد ازاں ہفتے کے روز، وزارت نے لوٹسک میں گاڑیوں کی مرمت کے کارخانے، مغربی علاقے تیرنوپیل میں ایک بجلی کے سب اسٹیشن اور اوڈیسا کے جنوب میں ایک اور مال بردار بحری جہاز پر مزید حملوں کی اطلاع دی، جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان لے جا رہا تھا۔


















