ایکسیوس نے ہفتہ کو رپورٹ کیا کہ تازہ حملوں میں اسرائیل نے اعلیٰ ایرانی سیاسی اور عسکری شخصیات کو نشانہ بنایا، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان شامل ہیں۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے اس نیوز آؤٹ لیٹ کو تصدیق کی کہ اسرائیل نے ایرانی اعلیٰ کمانڈروں اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف فضائی حملے کیے۔
اسرائیل کے چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ تل ابیب میں کی گئی تشخیصات کے مطابق امکان بہت زیادہ ہے کہ علی شمخانی، جو خامنہ ای کے مشیر اور ایران کے جوہری پروگرام کے ذمہ دار ہیں، ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایران کے وزارتِ خارجہ نے فوراً بعض رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ٹھیک ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے کسی بھی ہلاکت کی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
اسرائیل اور امریکہ نے ہفتے کے اوائل میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ آپریشن کا اعلان کیا، جس میں 'ایرانی رژیم' کی طرف سے لاحق 'دھمکیوں' کا حوالہ دیا گیا۔
یہ حملے اس وقت ہوئے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت عمان کی ثالثی کے تحت جاری تھیں۔
جنیوا میں مذاکرات کا آخری سیشن جمعرات کو ختم ہوا تھا۔











