جنوبی کوریا نے ایبولا کے باعث یوگنڈا کے لیے سفری انتباہ کو بڑھا دیا
یانہاپ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی کوریا نے جمعرات کے روز خطے میں ایبولا کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر یوگنڈا کے لیے سفر ی انتباہ کو بڑھا دیا ہے۔
جنوبی کوریا نے ایبولا کے باعث یوگنڈا کے لیے سفری انتباہ کو بڑھا دیا
ایبولا / Reuters

یانہاپ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی کوریا نے جمعرات کے روز خطے میں ایبولا کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر یوگنڈا کے لیے سفر ی انتباہ کو بڑھا دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے پورے یوگنڈا کے لیے سفر کی وارننگ کو لیول 2 سے بڑھا کر ایک خصوصی سفری ہدایت  میں تبدیل کر دیا ہے۔

حکومت نے جنوبی کوریائی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ یوگنڈا کے لیے اپنے طے شدہ سفر کو منسوخ یا مؤخر کر دیں اور ملک میں مقیم شہریوں کو اپنی حفاظت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

 کوریائی وزارت، جمہوریہ کانگو  کے صوبے اتوری کے لیے لیول 4 کے تحت سفر پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔

کوریا کی بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کی ایجنسی نے منگل کے روز جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کو ایبولا وائرس کی بیماری کے لیے ترجیحی قرنطینہ مینجمنٹ ممالک نامزد کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت   کے مطابق، جمہوریہ کانگو  کے خاص طور پر اتوری اور شمالی کیوو کے صوبوں میں، بشمول بُنیا اور گوما کے شہروں میں اب تک ایبولا کے 51 واقعات کی تصدیق ہو چکی ہے ۔

یوگنڈا نے بھی دارالحکومت کمپالا میں دو تصدیق شدہ کیسز کی اطلاع دی ہے، جس میں ایک ایسے شخص کی موت بھی شامل ہے جس نے جمہوریہ کانگو سے سفر کیا تھا۔

ادارے کے مطابق، یہ حالیہ لہر 'بُنڈی بوگیو'  نامی قسم کے ذریعے پھیل رہی ہے جو کہ ان چند وائرسوں میں سے ایک ہے جو ایبولا کی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایبولا کی علامات میں بخار، پٹھوں کا درد، جلد پر خارش اور بعض اوقات خون بہنا شامل ہے۔ یہ وائرس جسمانی رطوبتوں کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس میں آلودہ مواد کو چھونا یا کسی ایسے شخص سے رابطہ شامل ہے جو اس بیماری سے مر گیا ہو۔