اسرائیلی افواج نے میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی شام کے صوبے قنیطرہ کے دیہی علاقے میں واقع قصبے الرافد کے مضافات پر گولہ باری کی ہے۔
شامی اخباریہ ٹی وی نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس علاقے پر چھ گولے داغے گئے، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل، پانچ فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک اسرائیلی فورس الرافد کے مضافات تک آگے بڑھی تھی اور بعد میں کسی کو گرفتار کیے بغیر پیچھے ہٹ گئی۔
یہ تازہ ترین واقعہ اس علاقے میں مسلسل جاری اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ہے۔ جمعرات کے روز بھی اسرائیلی افواج نے جنوبی قنیطرہ میں تل الاحمر کے قریب دو توپ خانے کے گولے داغے تھے۔
شام کی سرکاری نیوز ایجنسی 'سانا' (SANA) نے یہ رپورٹ بھی دی تھی کہ منگل کے روز اسرائیلی افواج نے الرافد کے مغرب سے ایک چرواہے کو حراست میں لیا اور چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا۔
جنوبی شام، بالخصوص قنیطرہ اور درعا میں، بار بار اسرائیلی دراندازی دیکھی گئی ہے جس میں چھاپے، تلاشی، گرفتاریاں اور فوجی چوکیاں قائم کرنا شامل ہیں۔
گزشتہ ماہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں ابو الظہور ملٹری ایئربیس کے رن وے پر آٹھ حملے کیے تھے، جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی سرگرمیوں میں شدت آئی ہے، جب اسرائیل نے 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا اور شام کے بفر زون پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

















