ایران کے جزیرۂ قشم کے شمال میں ایک بحری تصادم میں شدید نقصان اٹھانے والے بلک کارگو جہاز سے 23 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آج بروز منگل ایک بحری تصادم کے نتیجے میں 23 رکنی غیر ملکی عملے والے کارگو بحری جہاز کے درمیانی حصے کو شدید نقصان پہنچا اورجہاز میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔
جہاز کے کپتان نے عملے کو فوری طور پر جہاز خالی کرنے کا حکم دیا جس کے بعد تمام ملاحوں کو کامیابی سے بچا کر جزیرۂ قشم منتقل کر دیا گیا۔
خبر کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے حکام کو منگل کو علی الصبح اس تصادم کی اطلاع ملی جس کے بعد فوری طور پر بحری امدادی کارروائی شروع کر دی گئی۔
متاثرہ جہاز کی مدد اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبہ ہرمزگان کے میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو سینٹر کے تعاون سے ایک پائلٹ کشتی اور ایک ٹگ کشتی روانہ کی گئی۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بلک کارگو جہاز سمندر میں ایک دوسرے جہاز سے ٹکرا گیا تھا، تاہم حکام ابھی تک حادثے کی اصل وجہ کا تعین نہیں کر سکے۔
یہ امدادی کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے گرد سکیورٹی خدشات پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز صبح سویرے بندر عباس، جزیرۂ کیش اور جزیرۂ قشم میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہونے کی بھی اطلاع دی ہے۔ تاہم ان واقعات کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں۔
یہ بحری حادثہ جون میں قطر اور پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی کے فریم ورک کے خاتمے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی اور دشمنی کے تناظر میں پیش آیا ہے۔




















