جمہوریہ ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے نسل کشی کے مرتکب اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔
وزارت کی طرف سے جاری بیان میں مندرجہ ذیل الفاظ کو جگہ دی گئی:
غزہ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے روڈ میپ وضع کرنے پر اتفاق ہونے کے فوراً بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں 30 سے زائد شہریوں کا قتل اور طبی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ نتن یاہو حکومت کے پاس فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
نتن یاہو کا واحد مقصد فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن سے بے دخل کرنا اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ اسی تناظر میں وہ خطے کے نازک توازن کو بگاڑنے والے اقدامات اٹھانے اور خاص طور پر امریکہ سمیت ثالث ممالک کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتا ۔
مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے کو تنازعہ کے میدان میں تبدیل کرنا چاہنے والے نتن یاہو کے توسیع پسندانہ اور عسکری نظریے کے خلاف عالمی برادری کا زیادہ پُرعزم، مستقل اور مضبوط مؤقف اپنانا اب لازم و ملزوم بن چکا ہے۔
ہم خطے اور فلسطین کے امن و خوشحالی کی حمایت کرنے والے تمام ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے احساس کے ساتھ عمل کریں اور بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کا تحفظ کریں۔




















