امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا کے ایک اٹارنی نے ریاست کی رہائشی 17 سالہ لڑکی کو قتل میں معاونت کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
اطلاع کے مطابق مذکورہ نوجوان لڑکی نے مئی میں سان ڈیاگو، کیلیفورنیا کی ایک مسجد میں ہونے والے مسلح حملے کی براہ راست نشریات دی اور حملہ آور کے لکھے ہوئے سفید فام برتری کے نعروں والے پرچے بھی تقسیم کئے۔
نوجوان لڑکی کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا اور اسکولوں کے دوبارہ کھلنے سے چند دن قبل پیر کے روز ایک گرینڈ جیوری نے اس پر فردِ جرم عائد کی۔
فارسائتھ کاؤنٹی کے ضلعی اٹارنی جم او'نیل نے کہا ہے کہ ’’اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسکول کھُلنے والے ہیں اور وہ دوبارہ اسکول جانے والی ہے۔ علاوہ ازیں ہفتہ وار تعطیلات اور مذہبی ایام بھی قریب آ رہے ہیں... ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کچھ کر سکتی ہے۔‘‘
اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے مذکورہ حملے کے علاوہ ایک یہودی عبادت گاہ کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
او'نیل نے کہا ہے کہ شمالی کیرولائنا کے قوانین کے مطابق ’’جو شخص کسی دوسرے فرد کو جرم کے ارتکاب میں مدد یا معاونت فراہم کرتا ہے اسے اس جرم کا اسی طرح ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے جیسے اس نے خود جرم کا ارتکاب کرنے والے کو۔‘‘
حکام نے دونوں حملہ آوروں کی شناخت 17 سالہ کین کلارک اور 18 سالہ کیلب وازکیز کے نام سے کی ہے۔ دونوں نے 18 مئی کو سان ڈیاگو اسلامک سینٹر پر حملہ کیا۔تاہم سینٹر کے ایک سکیورٹی گارڈ کے ان کا مقابلہ کرنے اور سکیورٹی پروٹوکول کو فعال کرنے کے نتیجے میں عمارت کے اندر موجود تقریباً 140 بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے سکیورٹی گارڈ امین عبداللہ ، منصور کاظمی اور نادر عواد کو قتل کرنے کے بعد قریب کھڑی ایک گاڑی میں خودکشی کر لی تھی۔
او'نیل نے کہا ہے کہ حملے کی براہ راست ریکارڈنگ حملہ آوروں کے جسم پر نصب GoPro کیمروں کے ذریعے کی گئی تھی۔

















