دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ کی امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروس ٹیکس عائد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک جو ایسا ٹیکس نافذ کرتا ہے، اسے امریکہ کو برآمد کیے جانے واالی تمام اشیاء پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کی امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروس ٹیکس عائد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپی ممالک نے امریکی ٹیک کمپنیوں پر نئے ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا تو وہ ان پر ٹیرف میں بھاری اضافہ کر دیں گے۔ / AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی ایسے ملک سے آنے والی درآمدات پر 100 فیصد محصول عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جو ڈجیٹل سروسز ٹیکس اپناتا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس امریکی کمپنیوں کو نشانہ بناتا ہے۔

جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ چند یورپی ممالک امریکی کمپنیوں پر ڈجیٹل سروسز ٹیکس جلد لاگو کرنے پر بات چیت کر رہے ہیں اور بعض ممالک اس اقدام کے قریب ہیں۔

انہوں نے لکھا: "ان میں سے بعض ممالک حقیقتاً اس کو اپنانے کے قریب ہیں۔ براہِ کرم اس بیان کو اس بات کی نمائندگی سمجھا جائے کہ کوئی بھی ملک جو ایسا ٹیکس عائد کرتا ہے، اسے متحدہ امریکہ بھیجی جانے والی  تمام تر  اشیاء پر فوراً 100 فیصد محصول کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔"

ٹرمپ نے کہا کہ "یہ محصول اس ملک کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں پر فوقیت رکھے گا، چاہے وہ نافذ ہوں، دستخط شدہ ہوں یا نہ ہوں۔ مزید برآں  اگر وہ آگے بڑھے تو 100 فیصد محصول فوراً عائد کر دیا جائے گا۔"

گزشتہ ہفتے، جی7 سربراہی اجلاس میں ان کے ملنے سے چند گھنٹے قبل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس ٹرمپ کے دباؤ میں نہیں جھکے گا اور امریکی ٹیکنالوجی فرموں پر عائد اپنے ڈیجیٹل ٹیکس کو ختم نہیں کرے گا۔

فرانس کے لیے اجلاس میں جانے سے پہلے ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیرس اپنا ڈیجیٹل ٹیکس ختم نہیں کرتا تو امریکہ کے پاس 'کوئی چارہ نہیں' ہوگا سوائے اس کے کہ وہ فرانسیسی شراب پر 100 فیصد محصول عائد کر دے۔

فرانس نے 2019 سے ایسی کمپنیوں جو ملک میں 25 ملین یورو سے زیادہ اور دنیا بھر میں 750 ملین یورو سے زائد آمدنی رکھتی ہیں، ان کے ڈیجیٹل سروسز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 3 فیصد محصول لگایا ہوا ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکس بمقابلہ روایتی ٹیکس

گوگل، میٹا اور ایمیزون جیسی ٹیک کمپنیاں یورپی صارفین سے اشتہارات، ڈیٹا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قابلِ قدر آمدنی حاصل کرتی ہیں، تاہم مقامی طور پر عام طور پر کم ٹیکس ادا کرتی ہیں کیونکہ ان کی وہاں جسمانی موجودگی محدود ہوتی ہے۔

ڈجیٹل سروسز ٹیکس عموماً آمدنی کے 2 سے 3 فیصد کے اردگرد مقرر ہوتا ہے اور حکومتوں کو اس آمدنی کو اسی جگہ ٹیکس کرنے کی اجازت دیتا ہے جہاں وہ تیار ہوتی ہے، نہ کہ اس جگہ جہاں کمپنی کا ہیڈکوارٹر یا سرورز ہیں۔

یہ ٹیکس ایک محسوس شدہ عدم توازن کو دور کرنے کے لیے بھی تیار کیے گئے ہیں۔

مقامی کمپنیاں عام طور پر معیاری کمپنی ٹیکس ادا کرتی ہیں، جبکہ بڑے کثیرالقومی ٹیک ادارے منافع کو آئرلینڈ جیسے کم ٹیکس والے علاقوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔

ڈجیٹل سروسز ٹیکس،  اس کھوئی ہوئی آمدنی کے بعض حصے کی تلافی اور عوامی خزانے کی مدد کرتے ہیں۔

معاشی پہلوؤں سے آگے، یہ ٹیکس سیاسی معنی بھی رکھتے ہیں۔ عالمی ٹیکس اصلاحات میں سست پیش رفت کے ساتھ، فرانس، اٹلی اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے عارضی حل کے طور پر یکطرفہ اقدامات متعارف کرائے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ وہ بڑے بین الاقوامی معاہدے کے لیے مذاکرات پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے خود مختاری سے عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔