دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکی معاشرہ، ایران کے ساتھ معاہدے پر، تزبزب کا شکار
امریکی عوام ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے میں منقسم دِکھائی دے رہی ہے: سی این این
امریکی معاشرہ، ایران کے ساتھ معاہدے پر، تزبزب کا شکار
20 مئی 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کیپیٹل کے باہر، ایران میں ٹرمپ کی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج میں شریک ’ووٹ ویٹس‘ کے حامی۔ / Anadolu Agency

امریکی عوام ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے میں منقسم دِکھائی دے رہی ہے۔

سی این این کی خبر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے  ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی طرف پیش رفت کے اشاروں کے بعد امریکی عوام اس معاملے پر منقسم دکھائی  دے رہی ہے۔ امریکی معاشرے کے ایک حصّے میں  مزید گہری فوجی مداخلت سے بچنے کی خواہش پائی جاتی ہے تو  دوسرے حصّے کو تنازعے کے خاتمے  کے لیے واشنگٹن کی جانب سے دی جانے والی ممکنہ رعایتوں پر تشویش کا سامنا ہے۔

حالیہ سروے رپورٹوں  اور سیاسی مباحثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے امریکی ایران کے ساتھ جنگ کے پھیلاؤ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تہران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اب بھی ایک سنگین سکیورٹی خطرہ سمجھتے ہیں۔

 رائے عامہ کا  یہ رجحان امریکی خارجہ پالیسی کے ایک معروف تضاد کی عکاسی کرتا ہے کہ  رائے دہندگان عموماً بیرونی خطرات کو محدود کرنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن طویل فوجی کارروائیوں کے لئے کم ہی آمادہ ہوتے ہیں۔

یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی  ہے کہ جب امریکی اور ایرانی مذاکرات کار کشیدگی میں کمی کی خاطر آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی، پابندیوں میں نرمی اور ایران کی جوہری سرگرمیوں سمیت بنیادی امور پر بات چیت کر رہے ہیں ۔

خبروں  کے مطابق باوجودیکہ  حالیہ امریکی حملے جنہیں تہران جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہےصورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں ثالثوں کے وسیلے سے مذاکرات جاری ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی امتحان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ جو بھی معاہدہ  ہومضبوط اور امریکہ کے مفاد میں ہونا چاہیے، جبکہ ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ جلد بازی میں کیا گیا سمجھوتہ ایران کو زیادہ گنجائش دے سکتا ہے۔

مارکو روبیو نے بھی زور دیا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی چاہتا ہے اور امریکہ 'ایسے ہو یا ویسے' بحری آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔

اندرونی سیاست میں یہ معاملہ ووٹروں اور کانگریس کے ارکان کے درمیان واضح تقسیم کو ظاہر کر رہا ہے۔

حالیہ تجزیات اور سروے رپورٹوں  سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی عوام ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کی عمومی طور پر حمایت نہیں کرتے، تاہم وہ تنازعے کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کی محدودیت کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

یہ صورتحال واشنگٹن کے لیے ایک نازک راستہ چھوڑتی ہے اور وہ یہ کہ کمزور دکھائی دیے بغیر سفارت کاری کرنا، جنگ کو بڑھائے بغیر ایران کو قابو میں رکھنا، اور شکی عوام کو اس بات پر قائل کرنا کہ ممکنہ امن معاہدہ امریکہ کے مفاد میں ہے۔

بہت سے امریکیوں کے لیے اصل سوال اب صرف یہ نہیں کہ آیا ایران خطرہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایک اور طویل مشرقِ وسطیٰ جنگ کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

دریافت کیجیے
بھارت: مودی۔ٹسک ملاقات، دفاع، خلاء اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق
ملائیشیا: ہم، آسیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائیں گے
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے
فرانس میں مظاہروں کے دوران واقعات میں 2 افراد ہلاک
مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کر دی
امریکہ: ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
امریکہ: جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
کولومبیا:سونے کی کان پر تودہ گر گیا،14 افراد ہلاک متعدد زخمی
پوٹن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
سوڈان: بس اسٹاپ پر ڈرون حملہ، 80 افراد ہلاک
یورپ کی بد امنی میں روس کا ہاتھ،کریملن نے مضحکہ خیز قرار دے دیا
یورپی سفارت کاروں پر حملے،یورپی یونین اور کینیڈا کی مذمت
تھائی لینڈ میں تیز بارشوں سے آنے والے سیلاب میں ایک مہینے میں 80 افراد ہلاک ہوگئے
کیف میٹرو اسٹیشن پر روسی فضائی حملہ، ایک عورت ہلاک
کریملن کی تجویز: روس۔امریکہ۔چین اجلاس ضروری ہے
فرانس: ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑے، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات