سیاست
3 منٹ پڑھنے
جان ایف کینیڈی کے قتل کی اسرائیل کے جوہری پروگرام کی مخالفت تھا، امریکی قانون ساز
مارجری ٹیلر گرین نے امریکی صدر کے اسرائیل پر ایران کے خلاف آتشبندی کی خلاف ورزی کرنے کے بعد ان کی اور ٹرمپ کی حفاظت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
جان ایف کینیڈی کے قتل کی  اسرائیل کے جوہری پروگرام کی مخالفت تھا، امریکی قانون ساز
President John F. Kennedy listens while Grand Duchess Charlotte of Luxembourg speaks outside the White House in Washington [File] / AP

امریکی کانگریس کی رکن مارجوری ٹیلر گرین کا کہنا ہے کہہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کا تعلق اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی مخالفت سے ہو سکتا ہے، اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اب ان کی یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی کو بھی اسی طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے : "کینیڈی ایک عظیم صدر تھے جنہیں  امریکی عوام میں بڑی مقبولیت حاصل تھی۔ انہوں نے  اسرائیل کے جوہری پروگرام کی مخالفت کی ، اور پھر انہیں قتل کر دیا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا: "کیا مجھے اب یہ محسوس کرنا چاہیے کہ میری زندگی خطرے میں ہے؟ اور صدر ٹرمپ کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے آج صبح ایران پر حملے جاری رکھنے پر اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے؟"

ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر مزید فضائی حملے کرنے سے خبردار کیا اور اسے جنگ بندی معاہدے کی "سنگین خلاف ورزی" قرار دیا۔

نا ختم ہونے والی غیر ملکی جنگیں

گرین نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حالیہ امریکی فوجی حملوں پر بھی تنقید کی ہے اور ان جنگوں کو "غیر ملکی مفادات" کے لیے نہ ختم ہونے والی جنگیں قرار دیا ہے۔

انہوں نے ایک الگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ : " صرف حکومت کی تبدیلی، غیر ملکی جنگوں، اور فوجی صنعت کے منافع کے لیے امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور جسمانی و ذہنی طور پر ہمیشہ کے لیے تباہ ہو چکے ہیں ۔ میں اس چیز  سے تنگ آ چکی ہوں۔"

صدر کینیڈی کو 1963 میں ڈالاس میں قتل کیا گیا

سرکاری تحقیقات کے مطابق، سابق امریکی میرین لی ہاروی اوسوالڈ کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، لیکن یہ قتل طویل عرصے سے قیاس آرائیوں اور سازشی نظریات کا موضوع رہا ہے۔

اپنی صدارت کے دوران، کینیڈی نے اسرائیل کی جوہری خواہشات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ 1963 میں، انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم داود بن  گوریون پر زور دیا کہ وہ ڈیمونا جوہری تنصیب کے بارے میں شفافیت اختیار کریں، اور خبردار کیا کہ مسلسل راز داری امریکی حمایت کو "سنگین خطرے" میں ڈال سکتی ہے۔

تاہم، اس تنازعے کو کینیڈی کے قتل سے جوڑنے کے لیے کوئی عوامی طور پر تصدیق شدہ شواہد موجود نہیں ہیں۔

گرین کے بیانات کو سیاسی مخالفین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات غیر مصدقہ دعووں کو  طول دینے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کینیڈی کے قتل اور اسرائیل کی جوہری پالیسی کے درمیان تعلق  کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

 

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع