سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکہ، اسرائیل اور شام کے درمیان، ایک باریک لکیر پر چل رہا ہے
امریکہ، شام پر اسرائیلی حملوں کے بعد، اسرائیل اور شام کے درمیان ایک باریک لکیر پر چل رہا ہے
امریکہ، اسرائیل اور شام کے درمیان، ایک باریک لکیر پر چل رہا ہے
Izraeli: Sulmet amerikane ndaj lokacioneve bërthamore iraniane janë koordinuar me ushtrinë izraelite / TRT Balkan

گذشتہ چند دنوں سے اسرائیل ،سویدہ، درعا کےدیہاتوں، دمشق اور دمشق کے دیہاتوں پر مشتمل، شام کے چار حصوں پر حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے ایک طرف  درجنوں شامیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا  اور دوسری طرف، دروز رہنما اور بدوی قبائل کے جنگجوؤں کے درمیان مقامی تصادم کی وجہ سے پیدا ہونے والی، افراتفری میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، حالات معمول پر لانے کے لئے، بحران زدہ علاقے میں متعین کردہ  افواج  کوپیچھے ہٹا لے۔

امریکہ نے  دمشق میں واقع وزارت دفاع سمیت ملک پر  اسرائیلی حملوں کو ایک "غلط فہمی" قرار دیا اور  اسرائیلی حملے بند کروانے میں  مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

 اسرائیل دروز برادری کی "حفاظت" کے بہانے شام کے علاقے پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

 امریکہ، جس نے شام کو ایک حکومت، ایک جھنڈے اور ایک قومی فوج کے تحت مستحکم کرنے کا عہد کیا تھا،  اپنے اتحادی 'اسرائیل' کے حملوں کی وجہ سے اپنے کام میں پیچیدگیوں کا مشاہدہ کر رہاہے۔ واشنگٹن نے ان حملوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا لیکن تل ابیب کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔

 سابق امریکی سفیر ہنری ایس اینشر نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ "واشنگٹن ایک پتلی لکیر  پر چل رہا ہے اور  یہ چیز امریکی پالیسی میں دیرینہ مخمصے کی عکاسی کر رہی ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ کرنا چاہتا ہے اورشام میں قیامِ استحکام   اورملک کو  مزید تقسیم یا غیر ملکی تسلط سے بچانے کے لئے نئی  شامی قیادت کی مدد کو اہمیت  دیتا ہے۔

اینشر نے امریکہ کے نقطہ نظر کو، دہشتگردی کے خلاف جدوجہد، علاقائی اثر و نفوذ اور تناو کے سدّباب جیسے موضوعات پر باہم متضاد مفادات کی وجہ سے تشکیل پانے والا، "پُرتشویش تذبذب" قرار دیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے  کہ امریکہ ہمیشہ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل کے حقِ خود حفاظتی  پر زور دیتا ہے۔دوسری طرف امریکہ، مشرق وسطیٰ کو کنٹرول میں رکھنے، دہشت گردی کی روک تھام کرنے اور ایران یا روس کے اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کی خاطر، نئی حکومت کو کامیاب ہوتا دیکھنے کا بھی خواہش ہے ۔

واضح رہے کہ اسرائیل، بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے، شام پر متعدد فضائی حملے کر چُکا ہے ۔

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، احمد شرا ع کی زیرِ قیادت  شام کے ساتھ قریبی تعلقات کے موضوع پر، ترکیہ اور سعودی عرب کی اختیار کردہ حکمت عملی  پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم، تل ابیب انتظامیہ اس عمل کے بارے میں مثبت  موقف نہیں رکھتی۔اسرائیل نے شام پر  تازہ ترین حملوں میں دمشق میں صدارتی پیلس، جنرل اسٹاف اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اسرائیل سے شام کی صدر شراع کو 'تباہ' کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اینشر نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ دمشق میں مرکزی حکومت کے اہداف پر اسرائیلی حملے کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ دمشق کے وسط میں کئے گئے اس  نوعیت  کے حملوں کو عام طور پر جنگی کارروائی سمجھا جاتا ہے اور امکان ہے کہ امریکہ ان اقدامات کے بارے میں اسرائیل سے کچھ سوالات پوچھے گا۔

 اسرائیل کا  دعوی ہے کہ اس نے دروز  برادری کے "تحفظ" کے لئے  شام پر اپنے فضائی حملے کئے ہیں ۔ تاہم دروز رہنماؤں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کچھ دروز شخصیات کو استعمال کرکے اس کمیونٹی کے تحفظ کے بہانے شام میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دریافت کیجیے
روسی حملوں میں ایک بچہ سمیت تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ