دنیا
3 منٹ پڑھنے
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا اور اسلام آباد میں طویل دورانیے کے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے اپنی "آخری اور بہترین تجویز" پیش کر دی ہے: جے ڈی وینس
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکہ-ایران مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم، واشنگٹن تہران کے ردعمل کا منتظر۔ / AP

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا اور اسلام آباد میں طویل دورانیے کے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے اپنی "آخری اور بہترین تجویز" پیش کر دی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں  وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو اس تجویز پر غور کرنے کے لیے اب بھی وقت دے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ  "ہم یہاں سے ایک بہت سادہ سی تجویز کے ساتھ روانہ ہو رہے ہیں۔ ہماری پیش کردہ  آخری اور بہترین پیشکش ہمارا  مفاہمتی طریقہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔"

وینس نے کہا ہے کہ ایرانی وفد نے واشنگٹن کی شرائط کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مذاکرات کا تاحال کوئی اطمینان بخش نتیجہ نہیں نکلا۔ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہ کرنے کے عہد کے حوالہ سے وینس نے کہا "ہم نے فی الحال  ایسا کچھ نہیں دیکھا۔  امید ہے کہ ہم یہ دیکھیں گے۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی اختلاف کا موضوع اب بھی ایران کا جوہری پروگرام ہے اور امریکہ اس حوالے سے طویل مدتی ضمانت چاہتا ہے۔

 وینس کے مطابق  "سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ ہم ایران کی طرف سے، جوہری ہتھیار نہ بنانے اور   انہیں جوہری ہتھیار  کا مالک بنا سکنے والے ذرائع کےتلاش  سے باز رہنے سے متعلق، دوٹوک  یقین دہانی  کے خواہش مند ہیں "۔

ایران "انتہائی نوعیت کے" مطالبات کو مسترد کرتا ہے

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ جب واشنگٹن ، تہران کی طرف سے "انتہائی نوعیت کے" اور "غیر قانونی" قرار دیئے گئے، مطالبات سے دستبردار ہو جائے ۔

ایران وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پیش رفت کا دارومدار امریکہ کی طرف سے "سنجیدگی اور نیک نیتی" دکھائے جانے اور ایران کے "قانونی حقوق اور مفادات" کو تسلیم کئے جانے پر ہے۔

بقائی نے کہا ہے کہ "اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریقِ مخالف کی سنجیدگی اور  نیک نیتی، حد سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات سے اجتناب اور ایران کے جائز حقوق و مفادات کو قبول کرنے پر ہے۔"

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان پیغامات اور مسودہ متن کے تبادلے کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، جنگی نقصان کا ازالہ (تاوان)، پابندیوں کا خاتمہ اور  ایران اور خطے کے خلاف جنگ کا مکمل خاتمہ  جیسے موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔

بقائی نے مزید کہا  ہےکہ ایران، امریکہ کی "بدنیتی" اور وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو نہیں بھولا۔

دریافت کیجیے
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی