ورلڈ بینک نے یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے اپنی قیمت کا تخمینہ اپ ڈیٹ کرتے ہوئے پچھلی رپورٹ کے 524 بلین ڈالر سے بڑھا کر سال کے آخر تک 588 بلین ڈالر کر دیا ہے۔
بینک نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اگلے دس سالوں کے لیے اپ ڈیٹ شدہ لاگت 2025 میں یوکرین کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً تین گنا کے برابر ہے، کیونکہ روس کے ساتھ جنگ چھڑے چار سال گزر چکے ہیں۔
بینک نے کہا"ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ، حکومتِ یوکرین2026 کے لیے بحالی اور تعمیرِ نو کی ترجیحات پوری کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے، جن میں عوامی سرمایہ کاری کے منصوبے اور تباہ شدہ رہائش گاہوں کے لیے فنڈنگ، بارودی سرنگوں کی صفائی اور کثیر شعبہ جاتی معاشی امدادی پروگرام شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 15 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔"
بینک نے اس طرف اشارہ دیا ہے کہ فروری 2022 سے کم از کم 20 بلین ڈالر کو رہائش، توانائی، تعلیم، نقل و حمل اور دیگر ضروری شعبوں میں ہنگامی مرمت اور ابتدائی بحالی کارروائیوں پر خرچ کیا جا چکا ہے۔
بینک نے کہا کہ یوکرین میں براہِ راست نقصان اب 195 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو پچھلی رپورٹ میں پیش کردہ 176 بلین ڈالر سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ شعبے رہائش، نقل و حمل اور توانائی ہیں۔
بینک نے کہا، 'نقصان، خسارے اور ضروریات کا تعین سرحدی علاقوں اور بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں کیا جاتا ہے۔'
تعمیرِ نو اور بازیابی
بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پچھلے سال کی رپورٹ کے مقابلے میں خراب یا تباہ شدہ اثاثوں میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ نقل و حمل کے شعبے میں ضروریات پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
بینک نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گزشتہ سال کے آخر تک رہائشی اسٹاک کا 14 فیصد خراب یا تباہ ہو چکا تھا، جس سے تین ملین سے زائد گھرانے متاثر ہوئے ہیں۔
بینک کے مطابق تعمیرِ نو اور بازیابی کی سب سے بڑی ضرورت نقل و حمل کے شعبے میں ہے، جو 96 بلین ڈالرسے بھی زیادہ ہے۔
اس کے بعد توانائی کے شعبے کو تقریباً 91 بلین ڈالر، رہائش گاہوں کے لیےتقریباً 90 بلین ڈالر، تجارت اور صنعت کے شعبے کے لیے 63 بلین ڈالر سے زائد درکار ہیں، جبکہ زراعت کا حصہ 55 بلین ڈالرسے زیادہ ہے۔
دریں اثنا، بارودی خطرات کے انتظام اور ملبہ ہٹانے کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 28 بلین لگایا گیا ہے، اگرچہ سروے اوربارودی سرنگوں کی صفائی کی کوششوں میں پیش رفت نے اس شعبے میں نقصانات کو محدود کرنے میں مدد دی ہے۔













