اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہیبرون کے قریب غیرقانونی کرمئی تزور بستی کو ہدف بنا رہے تھے۔
فوج نےجاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ یونٹ 636 کے فوجیوں نے غیرقانونی بستی کے نزدیک فلسطینیوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔
بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ فوجی فائرنگ سے قبل فلسطینیوں نے بستی کی طرف مولوتوف بوتلیں پھینکی تھیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور اسرائیلی فوج نے مزید مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے علاقے میں تلاشی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ہلاکتوں میں اضافہ
فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہےکہ واقعے کے دوران فائر بریگیڈ ٹیموں نے بستی کے نزدیک لگی آگ کو بجھایا ہے۔
اس واقعے کے بارے میں فلسطینی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ مقبوضہ مشرقی القدس خارج، اس علاقے میں تقریباً تین ملین فلسطینیوں کے درمیان 500,000 سے زائد غیرقانونی اسرائیلی آباد کار رہائش پذیر ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں متنبہ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی بستی کےآبادکاروں کی جانب سے جاری تشدد ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے اور یومیہ اوسطاً6 حملے ایسے ہوتے ہیں جو جانی اور مالی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل، اکتوبر 2023 سے مشرقی القدس سمیت پورے مقبوضہ مغربی کنارے میں، 1,169 فلسطینیوں کو قتل اور 12,666 کو زخمی کر چُکا ہے۔ اس کے علاوہ 23,000 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 33,000 کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔














