تائیوان کے صدر نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکہ 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی "جلد سے جلد" منظوری دے گا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ جمہوری جزیرہ چین کے ساتھ "الحاق کو مسترد" کرتا ہے۔
تائیوان چین کے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے امریکی مدد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور واشنگٹن نے تائی پے پر اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔
لیکن تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کو پیچیدہ بناتی ہے، جو ان کی مخالفت کرتا ہے۔
مئی میں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ 14 ارب ڈالر کا یہ معاہدہ "زیرِ غور" ہے۔
تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے جمعرات کو کہا کہ انہیں اب بھی "بڑی امیدیں" ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ہتھیاروں کی خریداری کی جلد سے جلد منظوری دے دی جائے گی۔"
انہوں نے تائی پے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "قومی سلامتی کے تحفظ، اپنے جمہوری اور آزاد طرزِ زندگی کو برقرار رکھنے، الحاق اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی کو مسترد کرنے کی تائیوان کی کوششوں کو چین کے خلاف اشتعال انگیزی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔"
امریکہ باضابطہ طور پر صرف چین کو تسلیم کرتا ہے، لیکن وہ اپنے ملکی قانون کے تحت تائیوان کو اپنے دفاع کے وسائل فراہم کرنے کا بھی پابند ہے۔
امریکی حکام نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے ایک بڑے پیکج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی فوج کے پاس ایران میں اپنے آپریشنز کے لیے کافی گولہ بارود موجود ہے۔
لائی کی حکومت نے اس سال مجموعی دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی (GDP) کے تین فیصد سے زیادہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے 1.25 ٹریلین نیو تائیوان ڈالر یعنی40 ارب امریکی ڈالرتجویز کیے ہیں، جس میں امریکہ کے تیار کردہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ تائیوان کے بنے ہوئے ڈرونز اور دیگر سامان شامل ہیں۔
لیکن تائیوان کے قانون سازوں کے درمیان دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کتنا خرچ کیا جائے، اس بات پر اختلاف رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے، جن کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہے، گزشتہ ماہ 25 ارب ڈالر کا خصوصی دفاعی بجٹ منظور کیا تھا، جس نے لائی کی حکمران جماعت کی تجویز کردہ رقم میں سے ایک تہائی کٹوتی کر دی تھی۔
چین، جو تائیوان پر اپنی سرزمین کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کرتا، تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت اور اس خود مختار جزیرے کے ساتھ سرکاری روابط کی ہمیشہ مخالفت کرتا آیا ہے۔






