بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی آج بروز بدھ دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔
علاقے میں امریکہ۔ ایران جنگ کے خطرے میں اضافے کے دوران طے پانے والے اس دورے کو دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو گہرا کرنے کا ایک موقع قرار دیا ہے ۔
ہندو قوم پرست شہرت کے حامل 'مودی' نے پہلا دورہ اسرائیل 2017 میں کیا اور یہ دورہ بھارت کے تاریخ میں کسی وزیر اعظم کا پہلا دورہ اسرائیل تھا۔ اس دورے میں مودی اور نیتان یاہو نے شمالی بندرگاہی شہر حیفا کے ساحل پر ننگے پاوں چہل قدمی کی تھی۔
تقریباً نو سال بعد بھی دونوں اقتدار میں ہیں اور ایک دوسرے کو دوست قرار دیتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب اسرائیل اپنی فوجی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے دونوں وزرائے اعظم کے درمیان مصنوعی ذہانت اور دفاع کے امور پر بات چیت متوقع ہے۔
ایک اسرائیلی سرکاری اہلکار کے مطابق "یہ دورہ، متعدد شعبوں میں نئی شراکت داریاں اور تعاون کے دروازے کھولے گا "جبکہ اسرائیل وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا ہےکہ "اسرائیل۔ بھارت تعلقات ایک اہم بلندی کی دہلیز پر ہیں"۔
توقع ہے کہ مودی اسرائیلی پارلیمنٹ ' کنیسٹ' سے خطاب کریں گے اور اسرائیل کی سرکاری ہولوکاسٹ یادگار 'یاد واشیم' پر پھول چڑھائیں گے۔
امریکی عسکری تعیناتی
مودی کا دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے کہ جب امریکہ ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر ایران کے ساحل کے قریب ایک بھاری بحری قوّت متعین کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 'تہران جوہری پروگرام' پر مذاکرات ایک بند گلی میں داخل ہو چُکے ہیں۔ علاوہ ازیں پینٹاگون نے بحیرہ روم میں بھی ایک طیارہ بردار جہاز تعینات کیا ہے جو اسرائیل کے ساحل کی طرف جائے گا۔
امریکہ کا ایران پر حملہ، ایران کی جانب سے اسرائیل پر اور خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ان ممالک میں لاکھوں بھارتی رہتے اور کام کرتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر رقوم بھارت بھیجتے ہیں۔
ایک بھارتی تھنک ٹینک 'آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن' سے' کبیر تنیجا' نے کہا ہےکہ نئی دہلی اس خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔مجھے یقین ہے کہ ایسے پیغامات ماضی میں بھی دیئے گئے ہوں گے اور اس دورے کے دوران بھی دیئے جائیں گے"۔
اسرائیل وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا ہےکہ دورے کے دوران 'علاقائی پہلووں' والی بات چیت کا امکان ہے۔
رواں ہفتے میں ایک کابینہ اجلاس سے خطاب میں نیتن یاہو نے بھارت کو مستقبل میں متوقع 'ہم فکر ممالک کے محور' کا حصہ قرار دیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا تھا کہ "ہمارا تعاون عظیم نتائج دے سکتا اوربلاشبہ ہماری مزاحمت اور مستقبل کا ضامن بن سکتا ہے"۔
'آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن' کے رکن 'تنیجا' نے کہا ہےکہ اگرچہ بھارت اسرائیلی فوجی ساز و سامان خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن بین الاقوامی معاملات میں اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کی وجہ سے کسی سرکاری اتحاد میں شامل ہونے سے ہچکچائے گا ۔












