دنیا
4 منٹ پڑھنے
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ہم، ڈیٹا سینٹروں کی بجلی اور پانی کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے نئے مصنوعی ذہانت قوانین متعارف کروائیں گے: البانیز
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز 15 جولائی کو سڈنی کی سڈنی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے / Reuters

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ ہم، ڈیٹا سینٹروں کی بجلی اور پانی کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے نئے مصنوعی ذہانت قوانین متعارف کروائیں گے۔ علاوہ ازیں تخلیقی فن پاروں کے لیے کاپی رائٹ کے تحفظ کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مصنوعی ذہانت سے متعلق اپنی حکومتی حکمتِ عملی پر ایک اہم خطاب میں وزیر اعظم انتھونی  البانیز نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عوامی  خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی  اورکہا  ہے کہ اے آئی  ٹیکنالوجی کو اس انداز میں فروغ دیا جا سکتا ہے جو آسٹریلیا کے قومی مفادات کی خدمت کرے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ ،اگلے سال نافذ کئے جا سکنے  والے اے آئی  قانون پر مشاورت کی خاطر آئندہ ماہ ریاستی و علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق اس قانون کا مقصد مصنوعی ذہانت پرعوامی  اعتمادمیں اضافہ کرنا اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

البانیز نے کہا ہے کہ آسٹریلیا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے دنیا کی قیادت کر رہا ہے لیکن مصنوعی ذہانت کی ترقی کی سمت کا تعین کرنا اس سے کہیں بڑا چیلنج ہے جس کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

سڈنی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ"اگر ہم پیچھے ہٹ گئے اور اپنی جگہ پر جمے رہے تو یہ تبدیلی ہمیں مکمل طور پر پیچھے چھوڑ دے گی۔ ہمارا عظیم ملک صرف بیرونِ ملک تیار کی جانے والی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کے لیے ڈیٹا کا ذخیرہ بننے سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کر سکتا ہے۔"

حکومت کی توجہ ڈیٹا سینٹروں پر

مجوزہ قوانین کے تحت بڑے ڈیٹا سینٹروں پر واضح قانونی ذمہ داریاں عائد کی جائیں گی۔ ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے استعمال سے زیادہ بجلی قومی گرڈ کو واپس  کریں، پانی کے استعمال کو کم سے کم رکھیں اور زمین کے استعمال میں رہائشی منصوبوں کے ساتھ غیر ضروری مقابلے سے گریز کریں۔

حکومت قومی پالیسی کی نگرانی کے لیے وزیرِ اعظم کے دفتر کے تحت ایک خصوصی مصنوعی ذہانت دفتر (AI Office) قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

البانیز نے کہا ہے کہ"اس عمل کو درست انداز میں آگے بڑھانے سے زیادہ وضاحت اور تیزی آئے گی، قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار آسان ہوگا اور اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ہماری کشش میں اضافہ ہوگا۔"

یہ اعلان ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی کمپنی Anthropic آسٹریلوی حکام پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ کاپی رائٹ قوانین میں ایسی تبدیلی کی جائے جس سے تخلیقی مواد کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت مل سکے۔

موسیقاروں، مصنفین اور اشاعتی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کرے اور ان کے تخلیقی کاموں کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے۔

البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا کا تخلیقی مواد "فروخت یا قربان نہیں کیا جائے گا۔"

انہوں نے مزید کہا:

"کوئی بھی کمپنی کسی فنکار کی اجازت کے بغیر آسٹریلیا کی کتابوں، موسیقی، فن پاروں یا خبروں کو مصنوعی ذہانت کی تیاری یا تربیت کے لیے استعمال نہیں کرنی چاہیے... اس سے کم کوئی بھی عمل دراصل چوری ہے۔"

مصنوعی ذہانت کو معاشی موقع قرار دیا گیا

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ تک ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری آسٹریلیا کی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شعبہ رہی۔

البانیز نے کہا کہ حکومت کو اب تک مصنوعی ذہانت کے روزگار کی منڈی پر کسی بڑے منفی اثر کے شواہد نہیں ملے۔

انہوں نے کہا:

"ہمیں مصنوعی ذہانت کو اچھے روزگار کے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے بہتر ملازمتیں پیدا کرنے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔"

دریافت کیجیے
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
نارویجیئن وزیر  خارجہ کا دورہ پاکستان،اہم امور پر  تبادلہ خیال
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا اسرائیلی دعوی مشکوک ہے:سی آئی اے
فرانس: ایران مظاہرین کو سزائے موت دینا بند کرے
انڈونیشیا: مسافر بردار کشتی میں آگ لگ گئی، ایک مسافر ہلاک
کولومبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک
بیجنگ نے موسلادھار بارشوں کے باعث بس سروسز معطل کر دیں، سیاحتی علاقوں کو بند کر دیا
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز