چین نے 10 شہروں میں اسکول اور کاروباری مقامات بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اطلاع کے مطابق سُپر طوفان 'راگاسا' کے ملک کے جنوبی حصے کی طرف بڑھنے کی وجہ سے کم از کم 10 شہروں میں اسکولوں اور کاروباری مقامات کو بند کر دیا گیا ہے۔
یہ حفاظتی اقدامات لاکھوں افراد کو متاثر کریں گے اور چین کے صنعتی مرکز کے ایک بڑے حصے میں ہزاروں فیکٹریوں کی سرگرمیوں کو محدود کر دیں گے۔
توقع ہے کہ 'راگاسا طوفان' 24 گھنٹوں کے اندر صوبہ گوانگ ڈونگ کے مرکزی اور مغربی ساحلی علاقوں میں پہنچے گا۔
صوبے کے ہنگامی انتظامی دفتر نے منگل کی صبح جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اہم علاقوں کو فیصلہ کن اقدامات اختیار کرنا چاہئیں۔ لوگوں کی زندگیوں اور املاک کی حفاظت کو مکمل طور پر یقینی بنا کر آفات سے پہنچ سکنے والے نقصان کو کم سے کم کرناچاہیے"۔
گوانگ ڈونگ نے طوفان کے لئے ہنگامی کاروائی نظام کو شدید چوکس حالت میں کر دیا ہے۔ ہانگ کانگ کے محکمہ موسمیات کے مطابق راگاسا طوفان شدید بادی جھکڑوں کے ساتھ اور 230 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے ۔
ٹیکنالوجی مرکز شینزین نے 400,000 افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا حکم دیا اور شہر کی ہنگامی انتظامیہ کے حکام نے "شدید ہواؤں، بارش، بلند سمندری لہروں اور سیلاب" کی وارننگ دی ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ "کاروباری مقامات اور بازار دوپہر سے بند ہو جائیں گے۔ایمرجنسی ریسکیو عملے اور رضاکاروں کے علاوہ، براہ کرم کوئی بھی بلا ضرورت باہر نہ نکلے"۔
دیگر بڑے شہر جنہوں نے روز مرّہ کاروباری مصروفیات محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں ان میں ژوہائی، ڈونگ گوان اور فوشان شامل ہیں۔
فوشان ایمرجنسی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "تیز ہوائیں اور شدید بارش ہمارے شہر کو شدیدمتا ثر کریں گی جس سے ایک نازک دفاعی صورتحال پیدا ہو گی۔"
راگاسا طوفان اس وقت جنوبی چین کے سمندر میں ہے۔قبل ازیں اس نے فلپائن کے کچھ حصوں کو متاثر کیا تھا اور طوفان کی وجہ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے کہا ہے کہ شمالی آبی گزرگاہ میں کام کرنے والے جہازوں کے ساتھ ساتھ تائیوان کے جنوبی آبنائے، باشی چینل، اور گوانگ ڈونگ کے قریب ساحلی پانیوں میں موجود جہازوں کو "حفاظت پر توجہ دینی چاہیے"۔
سائنسدان عام طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی لاپرواہیوں کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں دنیا کے ماحول کو گرم کر رہی اور طوفانوں میں شدّت پیدا کر رہی ہیں۔
















