پاکستان
3 منٹ پڑھنے
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں اور 22 چیک پوسٹیں پاک فوج کے مکمل کنٹرول میں آگئی ہیں، وزیر اطلاعات پاکستان
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
Pakistan India / AP
12 گھنٹے قبل

وفاقی وزیرِ اطلاعات پاکستان عطاء اللہ تارڑ کی طرف سے جاری کردہ  تازہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا  ہے، ان کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ  کر دی گئی ہیں اور 22 چیک پوسٹیں  پاک فوج  کے  مکمل کنٹرول  میں آگئی ہیں ، 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ ہمارا  آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کی تکمیل تک جاری رہے گا۔

پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کی مہمند دھارا بیس میں 2 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ننگرہار میں افغان فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بناکر تباہ کردیا گیا۔

افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، پاک افواج کامیابی سے افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو تباہ کر رہی ہیں۔

قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد دہشتگرد جہنم واصل

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ ترین کارروائیوں میں پاک افغان سرحد پر غلام خان سیکٹر میں افغان پوسٹ کو تباہ کردیا گیا، اعظم وارسک سیکٹرمیں بھی افغان طالبان کی شاگا پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں تشکیل کی دراندازی کو ناکام بنادیا گیا، متعدد دہشتگرد جہنم واصل ہوگئے۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹرمیں افغانستان کی رحیم تھانہ پوسٹ کومکمل تباہ کردیا۔

پاک فوج نے افغانستان میں اسلحہ کے گوداموں  اور پیٹرول کے بڑے ذخائر بھی تباہ کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے سرحد اور افغانستان کے اندر داخل ہوکر بھرپور کارروائیاں کیں جبکہ پاک فضائیہ نے قندھار، کابل، ننگرہار میں فضائیہ کارروائیاں کر کے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان رجیم ماسٹر پروکسی ہے اس کے شیلٹر تلے دہشت گرد پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں، افغان رجیم تمام دہشت گردوں کی پشت پر ہے۔ یہ دنیا بھر پر عیاں ہو گیا ہے کہ  کس طرح انہوں  نے  دہشت گردوں کی پشت پناہی کی اور پاکستان پر حملہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان رجیم پر کئی بار یہ واضح کرچکا ہے کہ دہشت گرد یا پاکستان، کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغان رجیم نے ہی دوحا میں مذاکرات کیے، کچھ وعدے کیے کہ یہاں نمائندگی پر مبنی حکومت بنے گی ، خواتین کا احترام کیا جائے گا اسی طرح انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ افغان زمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا اور دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رہی۔