جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی جاپان میں آنے والےہولناک زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 35 تک بڑھ گئی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام نے کہا کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ تمام اموات براہِ راست زلزلے کی وجہ سے ہوئی ہیں یا نہیں، اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تلاش جاری رہنے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
یہ زلزلہ منگل کو جاپان کے جنوبی مرکزی جزیرے کیوشو میں آیا، جس نے کوماموتو پریفیچر میں وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
زلزلے سے ایک شاپنگ مال میں دھماکہ ہوا، ایک فیکٹری کی چمنی گرا دی اور گھر مسمار کر دیے۔ جاپان کے زلزلہ شدت کے پیمانے پر اسے سب سے بلند 7 کا درجہ دیا گیا، جب کہ امریکی جیالوجیکل سروے (USGS) اور جرمنی کے GEOFON سیسمک مانیٹرنگ نیٹ ورک نے اس کی شدت 6.8 بتائی۔
حکام نے کہا کہ 80 سے زائد لوگ زخمی ہوئے، جن میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
ریسکیو کوششیں جاری
حکام نے کہا کہ شاپنگ مال سے نکالے گئے سات افراد بعد ازاں جان بحق ہو گئے، جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ امکان ہے کہ یہ دھماکہ گیس لیکیج کے باعث ہوا، جو زلزلے کے تقریباً 80 منٹ بعد پیش آیا، اور اس کی تفتیش جاری ہے۔
بڑے زلزلے کے بعد سینکڑوں آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ ہنگامی ٹیمیں تباہی کے مکمل دائرے کا جائزہ لے رہی ہیں اورممکنہ طور پر ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش میں ہیں۔
جاپان، جو دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ زدہ ملکوں میں سے ہے، پیسفک رنگ آف فائر کے ساتھ واقع ہے اور دنیا کے اُن زلزلوں کا تقریباً 20 فیصد جن کی شدت 6.0 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، یہاں رونما ہوتے ہیں۔


















