اسپین کے صحت کے حکام نے ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ٹینیریف کے ساحل پر لنگر انداز ہالینڈ کے پرچم بردار مسافر بردار جہاز 'ایم وی ہونڈیئس' سے مسافروں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اتوار کے روز کینری جزائر پہنچنے والے اس جہاز میں اینڈیز وائرس کی نادر دیکھنے میں آنے والی قسم کے نتیجے میں تین اموات (ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن خاتون) اطلاع دی گئی ہے۔
انخلا کے عمل میں عوامی رابطے سے بچنے کے لیے سخت قرنطینہ حفاظتی اقدامات اختیار کئے گئے ہیں۔ ہسپانوی شہریوں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بند بسوں تک منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے میڈرڈ لے جایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اینڈیز وائرس انسانوں کے درمیان منتقل ہو سکتا ہے، تاہم مقامی آبادی کے لیے خطرہ کم ہے۔
انخلاء آپریشن کے نگران'تھیڈورس ایڈہینم گبرائسس' نے کہا ہے کہ یہ صورتحال 'ایک اور کووڈ کیس' نہیں ہے۔ انہوں نے انخلا کے عمل کے لیے اسپین کی تیاریوں کو بھی سراہا ہے۔ جہاز میں موجود آٹھ مشتبہ کیسوں میں سے چھ کی تصدیق ہو چکی ہے اور اب جہاز میں کوئی نیا مشتبہ کیس باقی نہیں رہا۔
ایم ہونڈیئس یکم اپریل کو ارجنٹینا کے شہر اشائیاسے روانہ ہوا تھا۔ تقریباً 150 مسافروں اور کچھ عملے کے ارکان کے انخلا کے بعد توقع ہے کہ جہاز اپنا سفر پر ہالینڈ روانہ ہو جائے گا۔












