امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں صدر رجب طیب ایردوان کے لیے اپنے احترام کی وجہ سے شرکت کریں گے اور اگر یہ اجلاس کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو شاید وہ وہاں نہ جاتے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ترکیہ کو نیٹو کے اندر بڑی فوجی طاقتوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ملک کی صلاحیتوں کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے ترکیہ کے وسیع فوجی سازوسامان کے ذخیرے اور واشنگٹن کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات کی طرف اشارہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ سربراہی اجلاس ترکیہ میں نہ ہوتا تو مجھے نہیں لگتا کہ میں شرکت کرتا۔ میں صدر ایردوان کے لیے اپنے احترام کی وجہ سے جا رہا ہوں۔
انقرہ کی جانب سے ایف-35 جنگی طیاروں اور طیاروں کے انجنوں کے مطالبے کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جو ترکیہ کو بہت خوش کرے گا۔
ترکیہ 7-8 جولائی کو دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں نیٹو رہنماؤں کی میزبانی کی تیاریاں کر رہا ہے۔


























