سیاست
2 منٹ پڑھنے
صدرِ کولمبیا کا ٹرمپ کے نام پیغام: "مجھے بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں"
کولمبیا اور ریاستِ متحدہ امریکہ خطے میں کلیدی فوجی اور تجارتی اتحادی ہیں، لیکن ان کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
صدرِ کولمبیا کا ٹرمپ کے نام پیغام: "مجھے بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں"
"Stop slandering me, Mr. Trump," Petro said on the social media platform X. / Reuters

کولمبیا کے صدر گوستاوو پیترو نے اتوار کو اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منشیات فروش قرار دینے کا بھی الزام لگانے والی  دھمکیوں کو مسترد کر دیا۔

امریکی افواج نے ہفتہ کی  علی الصبح  قاراقاس  پر حملہ کیا، فوجی اہداف کو بمباری کا نشانہ بنایا اور ایک اچانک کارروائی کے ذریعے  وینزویلا کے رہنما نکلو لس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے اور تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک پر واشنگٹن کا کنٹرول قائم کرنے کوشش  کی۔

اتوار کو ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کولمبیا کے خلاف عسکری کارروائی کی ملتی جلتی دھمکیاں دیں اور کہا کہ یہ جنوبی امریکی ملک 'بھی بہت بیمار ہے' اور 'ایک بیمار شخص کے زیرِ انتظام ہے جو کوکین بنانے اور اسے  امریکہ میں بیچنے کا شوقین ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'اس کے پاس کوکین بنانے کے کارخانے اور فیکٹریاں ہیں اور وہ یہ کام زیادہ دیر نہیں کر پائے گا۔'

جب سوال کیا گیا کہ کیا وینزویلا جیسی عسکری مداخلت کولمبیا کے لیے بھی ممکن ہے، تو ٹرمپ نے  کہا کہ  مجھے یہ اچھا لگے گا۔

ٹرمپ نے بلا کسی  ثبوت  کے دعویٰ کیا: 'آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کو مار ڈالتے  ہیں۔'

پیترو نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ"میرا نام عدالتی ریکارڈز میں شامل نہیں۔"

پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'X' پر کہا کہ ' مسٹر ٹرمپ، مجھے بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں' ۔

' ایک لاطینی امریکی صدر جو مسلح جدوجہد سے سامنے آیا  اور پھر کولمبیا کے عوام کی امن کی جدوجہد  کا لیڈر بنا، کو اس طرح کی دھمکیاں دینا ذی فہم نہیں۔'

پیٹرو نے خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کی عسکری کارروائی پر سخت تنقید کی ہے اور واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مادورو کو 'قانونی جواز کے بغیر ' اغوا کیا۔

بعد ازاں اتوار کو ایک اور پوسٹ میں پیٹرو نے لکھا: 'دوست بمباری نہیں کرتے۔'

کولمبیا کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کی دھمکیوں کو 'ناقابلِ قبول مداخلت' قرار دیا اور 'احترام ' کرنے  کا مطالبہ کیا۔

کولمبیا اور امریکہ خطے میں اہم عسکری اور اقتصادی اتحادی ہیں، تاہم ان کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔

ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز سے ہی درآمدی محصولات اور ہجرتی پالیسی جیسے معاملات پر دونوں رہنماؤں کے  درمیان تناو کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"