غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
فلسطینی قیدیوں کے لئے پھانسی کا قانون نافذ ہو گیا
فلسطینی قیدیوں کو پھانسی کی اجازت دینے والا اسرائیلی قانون اتوار کے روز سے نافذ العمل ہو گیا
فلسطینی قیدیوں کے لئے پھانسی کا قانون نافذ ہو گیا
اسرائیل نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کے لیے پھانسی کے ذریعے سزائے موت کو لازمی سزا قرار دیا گیا ہے۔ (تصویر: فائل) / Reuters

فلسطینی قیدیوں کو پھانسی کی اجازت دینے والا اسرائیلی قانون اتوار کے روز سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

روزنامہ 'دی ٹائمز آف اسرائیل' کے مطابق، اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے علاقائی کمانڈر میجر جنرل آوی بلتھ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں پھانسی کے قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں۔

فوجی حکم کے تحت،  اسرائیلی ہلاکتوں سے متعلقہ مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتیں عمر قید کی اجازت دینے والے"خصوصی حالات"کی عدم موجودگی میں سزائے موت کو "واحد قابلِ اطلاق سزا" کے طور پر سنانے کی پابند ہوں گی۔

قانون صرف فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے

اسرائیلی اخبار ہیرٹز کی خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم مقبوضہ مغربی کنارے کی عدالتوں کو اُن فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا اختیار دیتا ہے جنہیں "ریاستِ اسرائیل کے وجود سے انکاری" ہونے کی وجہ سے اسرائیلیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔

اخبار نے کہا ہے  کہ قانون کی زبان تقریباً مکمل طور پر فلسطینیوں کو ہدف بنانے کے انداز میں تیار کی گئی ہے۔ خبر کے مطابق، قانون میں شامل نظریاتی ثبوت کی شرائط کی وجہ سے اس قانون کا انتہا پسند یہودی حملہ آوروں پر اطلاق "مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن"ہے۔

ہیرٹزنے مزید لکھا ہے کہ اسرائیلی قانونی اور سکیورٹی ماہرین نے کنیسٹ کے قوانین کو مقبوضہ مغربی کنارےمیں غیر اسرائیلی شہریوں پر لاگو کئے جانے پر تشویش  کا اظہار کیا ہے۔

دیرینہ پالیسی سے ایک بڑا انحراف

اخبار کے مطابق، اتوار کے روز'  کنیسٹ قومی سکیورٹی کمیٹی' کے اجلاس میں قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں شہری قوانین کا نفاذ، اسرائیل کی دیرینہ پالیسی سے ایک بڑے انحراف کی علامت ہے۔

مارچ میں کنیسٹ سے منظور شدہ اس قانون کے تحت اسرائیلیوں کے خلاف مہلک حملوں کے الزام میں گرفتار فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا بنا دیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کنیسٹ نے ایک اور قانون بھی منظور کیا تھا جس کے تحت اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ملوث قرار دیئے گئے فلسطین تحریک مزاحمت 'حماس'کی ایلیٹ یونٹ کے ارکان کے لئے خصوصی فوجی عدالت قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔

انسانی حقوق کی فلسطینی اور اسرائیلی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 350 بچوں اور 73 عورتوں سمیت  9 ہزار 600 سے زائد فلسطینی قید ہیں ۔ اطلاعات  کے مطابق ان قیدیوں کو تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا ہے۔

دریافت کیجیے
غزّہ پر اسرائیلی حملے: متعدد فلسطینی زخمی
مسجد الاقصی میں عید الاضحی
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے سائے میں عید الاضحی: 9 فلسطینی شہید
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
ملائیشیا غزہ فلوٹیلا کارکنوں سے بد سلوکی پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع گا
اسرائیلی فوج نے عید الضحیٰ کی خریداری کے دوران مغربی کنارے کے علاقوں کی دکانیں بند کر دیں
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
حماس کے فوجی سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، حماس سینیئر حکام
اسرائیل کے تازہ حملوں میں غزہ میں 7 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کار پولیس کی حفاظت میں المسجد اقصی میں گھُس گئے
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
اسرائیل نے غزہ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس دوران 9 افراد زخمی ہو گئے
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 12 گاؤں خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے
غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا پر سوار بیس ترک شہریوں کو اسرائیل نے حراست میں لے لیا
اسرائیلی حملوں میں غزہ میں مزید 11 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
عرب ممالک کی انتہائی مذہب پرست اسرائیلی وزیر کی مسجدِ الاقصیٰ کا معائنہ کرنے پر شدید مذمت
اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے، فائر بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری
ایم ایس ایف: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں طبی سامان کی فراہمی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے
اسرائیلی فوج غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کو نظر ِ انداز کر رہی ہے