ووکس ویگن نے مزید 50 ہزار ملازمتوں کے خاتمے کا منصوبہ منظوری کر لیا۔
ووکس ویگن کے نگران بورڈ کے جمعرات کے روز متفقہ طور پر منظور کردہ منصوبے کے تحت 2030 تک جاری رہنے والے ایک جامع تنظیمِ نو پروگرام کے دوران دنیا بھر میں مزید 50 ہزار ملازمتیں ختم کی جائیں گی۔ یہ برطرفیاں پہلے سے جاری پروگراموں کے علاوہ ہوں گی۔
ووکس ویگن 2024 کے اختتام تک پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکی تھی کہ دہائی کے اختتام تک اپنی افرادی قوت میں تقریباً 50 ہزار افراد کی کمی کی جائے گی۔ دونوں مراحل کو ملا کر دیکھا جائے تو منصوبہ بندی کے مطابق ملازمتوں میں مجموعی کمی تقریباً 1 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر اولیور بلوم نے وولفس برگ میں ہونے والی رائے شماری کو ’’ووکس ویگن گروپ کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط اشارہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’مستقبل کا منصوبہ 2030‘‘، ’’ووکس ویگن گروپ کی تاریخ میں حکمتِ عملی کے اعتبار سے سب سے بنیادی تبدیلی کا پروگرام‘‘ ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ’’ہم اپنے تمام ملازمین، شراکت داروں اور عالمی سطح پر صنعتی روزگار کے حوالے سے اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ہم اپنی معروف برانڈز کو مزید پرکشش، مضبوط اور مسابقتی بنانے کے لیے سینکڑوں ارب کی سطح پر سرمایہ کاری کریں گے۔‘‘
کمپنی نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت، طلب میں تبدیلی اور تکنیکی تبدیلیوں کے باعث افرادی قوت کو ’’معاشی حقائق‘‘ کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
منصوبے کی بنیاد بننے والے اس تجزیے کے مطابق پہلے سے جاری پروگراموں کے علاوہ، انتظامی عہدوں سمیت پورے گروپ میں تقریباً 50 ہزار اضافی ملازمتوں میں کمی کی ضرورت ہوگی۔
واضح رہے کہ ووکس ویگن کے دنیا بھر میں تقریباً 6 لاکھ 63 ہزار ملازمین ہیں۔
ووکس ویگن نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس کا ہدف سالانہ 90 لاکھ گاڑیاں فروخت کرنا ہے۔ یہ تعداد حالیہ حجم کے منصوبوں سے تقریباً 10 لاکھ کم اور کورونا وائرس کی وبا سے پہلے کی سطح سے تقریباً 30 لاکھ کم ہے۔
گروپ کا منصوبہ ہے کہ 2035 تک اپنے ماڈل پورٹ فولیو میں تقریباً 50 فیصد کمی کی جائے اور مصنوعات کی پیچیدگی کو تقریباً 75 فیصد تک کم کیا جائے۔

















