پولش مسلح افواج نے منگل کی صبح کہا کہ پولینڈ نے مغربی یوکرین کو ہدف بنانے والے روسی ڈرون حملوں کے جواب میں شروع کی گئی فوجی فضائی کارروائیاں ختم کر دی ہیں۔
فوج نے کہا کہ بری فضائی دفاعی یونٹس اور ریڈار نگرانی کے نظام بھی چوکس رہنے کی اس مدت کے بعد معمول کے آپریشنز پر واپس آ گئے ہیں۔
جمہوریہ پولینڈ کی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی ریکارڈ نہیں ہوئی۔
فوج نے کہا کہ وہ صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری جواب دینے کے لیے تیار رہے گی۔
پولش مسلح افواج نے منگل کی صبح کہا کہ پولینڈ نے یہ کارروائیاں روسی ڈراونز کے یوکرینی علاقے میں حملے کرنے کے ردعمل کے طور پر کی گئیں ۔
اتوار کو ایک روسی ڈرون نے نیٹو رکن پولینڈ کے ساتھ بارڈر کے قریب واقع ایک مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا، یہ وہی راستہ تھا جہاں سے کچھ دیر قبل سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور دیگر یورپی سفارت کاروں نے سفر کیا تھا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ روسی حملہ یوکرین کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کو 'ڈرانے دھمکانے' کے لیے کیا گیا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ "میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں اس کے خلاف رد عمل دینا چاہیے۔ ہمیں دکھانا چاہیے کہ ہم یوکرین کے ساتھ ہیں اور ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔"
یوکرین ریلوے کے مطابق، یہ ٹرین وہی روٹ استعمال کر رہی تھی جو کیف سے واپسی پر غیر ملکی وفود اکثر استعمال کرتے ہیں، اور یہ پولش سرحد سے صرف 2 کلومیٹر کی دوری پر حملے کا شکار ہوئی۔
سرحدی محافظوں کے مطابق اتوار کی علی الصبح ، یوکرین کی سرحد سے پولینڈ کے قریب ایک ٹرک کو بھی 1 کلومیٹر سے کم فاصلے پر نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ڈوروہوسک-یاہودن گزر گاہ سے آمدورفت کو روک دیا گیا۔
حالیہ ہفتوں میں روس نے اپنے مغربی حلیفوں کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جو دونوں اطراف کی جانب سے ایک بڑھتی ہوئی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ایک دوسرے کے اقتصادی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے، یہ سب روس کی مکمل جنگ کے چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے دوران ہو رہا ہے۔
پولینڈ، جو نیٹو کا رکن ہے، نے بارہا اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی ہوابازی کو روسی حملوں کے دوران جب حملے اس کی سرحد کے قریب ہوئے تو بلند الرٹ پر رکھا ہے۔






















