امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے یا اپنی طلبا کو اس ملک کے ساتھ ایکسچینج پروگراموں میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کرنے والی یونیورسٹیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بل ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ایجنڈے پر لایا گیا تھا اور 237 کے مقابلے میں 169 ووٹوں سے منظور ہوا؛ اس دوران 33 ڈیموکریٹس نے اپنی پارٹی کے باقی ارکان سے ہٹ کر اس کے حق میں ووٹ دیا۔
صرف دو ریپبلکن ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا اور اب اس کا اگلا مرحلہ سینیٹ ہوگا۔
اس بل کے تحت وہ ادارے جو وفاقی فنڈ حاصل کرتے ہیں، ان پر لازم ہوگا کہ وہ کسی بھی شکل میں اسرائیل کا بائیکاٹ نہ کریں اور اپنے طلباء کو اسرائیل کے ساتھ ایکسچینج پروگراموں میں حصہ لینے کی پابندی نہ کریں۔
اگر یہ بل سینیٹ سے منظور ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے قانونی شکل اختیار کر گیا تو یہ اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی یونیورسٹیوں کو وفاقی فنڈز سے محروم کر دے گا۔




















