ترکیہ کے اقوامِ متحدہ کے لئے مستقل نمائندے احمد یلدز نےکہا ہے کہ مسلّح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اقوام متحدہ کی کھُلی مباحثہ نشست سے خطاب میں یلدز نے مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کے تحفظ کے ایک مشترکہ ذمہ داری ہونے پر زور دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ غزہ سے لے کر سوڈان تک تمام بحرانوں پر فوری توجہ دی جائے اور بین الاقوامی انسانی قانون کا مستقل نفاذ عمل میں لایا جائے۔
احمد یلدز نے کہا ہے کہ اس مسئلے کو ترجیحی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔مسلح تنازعات میں شہریوں کےتحفظ کی ذمہ داری کو بین الاقوامی برادری کی اہم ترین ترجیحات میں شامل رہنا چاہیے۔"
دوہرے معیار کے خلاف خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ"بین الاقوامی قانون کے حوالے سے انتخابی رویّے، بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں اور کثیرالجہتی اداروں پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔"
مسئلہ قبرص کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ 1963 اور 1964 کے درمیان ترک قبرصی عوام نے ایک مشکل دور کا سامنا کیا جس میں سیاسی اخراج، تشدد اور جبری بے دخلی سب شامل تھا ترک قبرصیوں کے خلاف ہونے والے مظالم "اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ میں دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔"
علاقائی بحرانوں پر توجہ
مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے احمد یلدز نے دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کا مطالبہ کیا اور کہا ہےکہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی صورتحال "بدستور نہایت سنگین" ہے ۔
انہوں نے "لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا اورکہا ہے کہ اسرائیل۔لبنان جنگ بندی ایک اہم قدم ہے جس پر مزید پیش رفت کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔"
یلدز نے شام میں سابق حکومت کے دور میں ہونے والے جرائم کے احتساب کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ شامی عوام کے پاس اب سلامتی، وقار اور مساوی شہریت کی بنیاد پر اپنے مستقبل کی تعمیر کرنے کا ایک تاریخی موقع موجود ہے ۔
افریقہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سوڈان میں انسانی بحران تباہ کن سطح تک پہنچ چکا ہے اور فوری بین الاقوامی مداخلت کا متقاضی ہے۔ انہوں نے لیبیا کی قیادت میں جاری سیاسی مذاکرات کی حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ "ترکیہ احتساب کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں کی مضبوط حمایت جاری رکھے گا۔"











