عراق کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک بھر میں تقریباً 60 لاکھ ہتھیاروں کا اندراج کرنے کے لیے ایک معلوماتی ڈیٹا بیس تیار کر لیا ہے۔
عراقی نیوز ایجنسی کی جانب سے شائع کردہ بیان میں وزارت نے یہ بھی بتایا کہ اس نے 71 ایسے جعلی دفاتر کو بند کر دیا ہے جو سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہوں کی چھتری تلے قائم تنظیم 'پاپولر موبلائزیشن فورسز' (PMF) سے وابستگی کا دعویٰ کر رہے تھے۔
وزارتِ داخلہ نے بند کیے گئے دفاتر کے مقامات یا ہتھیاروں سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
عراقی حکام نے جمعہ کے روز ملک بھر میں آتشیں اسلحے کے اندراج اور لائسنسنگ دفاتر کھولے تھے جو کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے لیے حکومت کے تیار کردہ منصوبے کا ایک حصہ ہے۔
عسکری ترجمان صباح النعمان نے 3 جون کو اعلان کیا تھا کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس کمیٹی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
ریاست کے کنٹرول سے باہر موجود ہتھیار عراق کے سب سے سنگین سلامتی اور سیاسی مسائل میں سے ایک بنے ہوئے ہیں۔ ملک میں متعدد مسلح گروہ سرگرم ہیں جن میں PMF سے وابستہ گروپ اور آزادانہ طور پر کام کرنے والے دیگر دھڑے شامل ہیں۔
حکومت داخلی استحکام کو مضبوط بنانے اور ملک کو علاقائی کشیدگی کے اثرات سے بچانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ہتھیاروں پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے اور ریاستی حفاظتی اداروں کے دائرہ اختیار کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
















