ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکیہ ، صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع ملاقات سے قبل معاملات طے کرنے کے زیرِ مقصد امریکی پابندیاں ختم کروانے اور S-400 تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش میں ہے۔
NTV سے بات کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ انقرہ اور واشنگٹن اس اختلاف کو حل کرنے کے لیے "تخلیقی تصور" پر سوچ و بیچارکر رہے ہیں، جن کا مقصد رہنماؤں کی 81ویں اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر متوقع ملاقات سے قبل معاملات کو سلجھانا ہے۔
فیدان نے کہا: کہ کاتساپابندیاں، خاص طور پر ہمارے صدراتی دفتر برائے دفاعی صنعت کے لیے ایک رکاوٹ ہیں ۔ ہم ان کو ہٹائے جانے پر کام کر رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ S-400 کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی کچھ "تخلیقی تصورات" موجود ہیں جن کے باعث یہ پابندیاں لگیں۔ ہم باہمی حسنِ نیت کے ساتھ حل عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس بارے میں مثبت اقدامات اٹھائیں گے۔
ایردوان اور ٹرمپ کی انقرہ میں آخری ملاقات اور اس کے بعد ہونے والے رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے فیدان نے کہا کہ امریکی صدر نے دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے اور اختلافی امور کو حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
فیدان نے S-400 مسئلے کو حل کرنے کے لیے زیرِ غور تجاویز کی تفصیلات پیش نہیں کیں۔





















