مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں "کافی پیش رفت" ہوئی، لیکن خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے میں ناکامی مذاکرات کے رخ کو "بنیادی طور پر بدل" سکتی ہے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
جےڈی وینس / Reuters

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں "کافی پیش رفت" ہوئی، لیکن خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے میں ناکامی مذاکرات کے رخ کو "بنیادی طور پر بدل" سکتی ہے۔

وینس نے پیر کو فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ میں صرف یہ نہیں کہوں گا کہ چیزیں غلط ہوئیں، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کچھ چیزیں درست ہوئی ہیں ، ہم نے کافی پیش رفت کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران اپنی پوزیشن بھی واضح کی، جن میں وہ "چیزیں شامل ہیں جنہیں ہم بالکل دیکھنا چاہتے تھے تاکہ امریکی  صدر کو لگے کہ وہ ایک اچھا معاہدہ حاصل کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اب بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ایرانیوں میں کافی لچک ہوگی، آیا ایرانی ان اہم چیزوں کو قبول کریں گے جنہیں ہم دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ معاملات طے پا سکیں۔"

 جب امریکی سرخ لکیروں کے بارے میں پوچھا گیا تو وینس نے جواب دیا کہ صدر  ٹرمپ نے کہا ہے کہ پہلی بات یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، لہٰذا ہماری تمام سرخ لکیریں اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی طرف اقدامات جاری رکھے گا، اور اسے عالمی اقتصادی استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "ہماری توقع ہے کہ ایرانی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں پیش رفت جاری رکھیں گے، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو یہ ہمارے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو بنیادی طور پر بدل دے گا۔"

وینس نے زور دیا کہ واشنگٹن کے پاس اہم جوہری مسائل پر "کوئی لچک" نہیں ہے، جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ہٹانا اور سخت تصدیقی اقدامات کو یقینی بنانا شامل ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں افزودہ مواد کو ایران سے باہر نکالنا ہوگا۔ ہمیں ان کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے حتمی عزم چاہیے اب گیند واضح طور پر ان کے کورٹ میں ہے۔"

انہوں نے کہا، "میرا خیال ہے کہ ہم نے یہ سمجھ حاصل کی کہ ایرانی کیسے مذاکرات کر رہے ہیں، اور یہی بالآخر وجہ ہے کہ ہم پاکستان سے واپس آئے۔"

امریکہ اور ایران نے ہفتے کے آخر میں اسلام آباد، پاکستان میں براہ راست مذاکرات کیے، لیکن وہ بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔

یہ مذاکرات اس مہینے کے آغاز میں اعلان کیے گئے دو ہفتوں کے جنگ بندی کے بعد ہوئے۔

پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
برطانیہ پر پابندی اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے:اسرائیلی وزرا
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشق شروع کر دیں
ترکیہ میں عجائب گھروں کی تعداد 2025 میں سالانہ 4.4 فیصد بڑھ کر 664 ہو گئی