دنیا
2 منٹ پڑھنے
غزہ میں اسرائیلی نسل کشی میں اموات کی تعداد موجودہ رپورٹ تعداد سے کہیں زیادہ ہے، تحقیق
اس مدت کے دوران پرتشدد ہلاکتوں میں 56.2 فیصد خواتین، بچے اور بزرگ تھے، اور یہ تناسب غزہ کے محکمہ صحت کی رپورٹنگ کے ساتھ عمومی طور پر ہم آہنگ ہے۔
غزہ میں اسرائیلی نسل کشی میں اموات کی تعداد موجودہ رپورٹ تعداد سے کہیں زیادہ ہے، تحقیق
دیر البلح میں نامعلوم فلسطینیوں کی اجتماعی تدفین، جن کے اجساد نسل کشی کے دوران اسرائیل میں روکے جانے کے بعد جاری کیے گئے۔ / Reuters
20 فروری 2026

دی لینسٹ گلوبل  ہیلتھ  میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ،  پہلے پندرہ ماہ کے دوران غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی میں 75,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے،جو مقامی صحت کے حکام کی طرف سے اُس وقت اعلان کردہ 49,000 ہلاکتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

نظرثانی شدہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس مدت کے دوران پرتشدد ہلاکتوں میں 56.2 فیصد خواتین، بچے اور بزرگ تھے، اور یہ تناسب غزہ کے محکمہ صحت کی رپورٹنگ کے ساتھ عمومی طور پر ہم آہنگ ہے۔

یہ مطالعہ فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ نے تیار کیا اور رائل ہالوے، یونیورسٹی آف لندن کے مائیکل اسپاگیٹ کی قیادت میں کیا گیا، جس میں 30 دسمبر 2024 سے شروع ہونے والے سات روزہ دور میں 2,000 فلسطینی گھروں کا سروے شامل تھا۔

"موجودہ شواہد کا مجموعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ 5 جنوری 2025 تک غزہ کی آبادی کا 3–4 فیصد پرتشدد طور پر ہلاک ہو چکا ہے، جنگ  کے غیرمستقیم اثرات کی وجہ سے پرتشدد ہلاکتوں کی بھی  کافی  تعداد موجود ہے۔"

16,300 غیر پرتشدد ہلاکتیں

محققین نے اندازہ لگایا کہ پہلے پندرہ ماہ کے دوران 75,200 پرتشدد ہلاکتیں ہوئیں، اس کے علاوہ بیماری، حادثات یا اسرائیل کی جنگ کے دیگر بالواسطہ اثرات سے منسلک 16,300 غیر پرتشدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

مصنفین نے اس سروے کو غزہ میں اموات کا پہلا آزاد آبادیاتی جائزہ قرار دیا جو محکمہ صحت کے انتظامی اعداد و شمار پر انحصار نہیں کرتا۔

عملے نے غزہ کے اضلاع میں گھروں کے ساتھ بالمشافہ انٹرویوز کیے اور جواب دہندگان سے اُن خاندان کے افراد کی فہرست مانگی جو ہلاک ہو چکے تھے۔ اموات کے اندازے شماریاتی تجزیے کے ذریعے نکالے گئے، یہ نتائج  95 فیصد  با اعتماد ہیں۔

غزہ کے صحت کے حکام، جن کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ طویل عرصے سے معتبر مانتی رہی ہے، اب رپورٹ کر رہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد  72,000 سے زیادہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، بشمول غزہ کے اُس نصف کے جو اب اسرائیل کے زیرِ قبضہ ہے۔

اس تحقیق کے ماہرین  نے کہا  ہےکہ ان کے نتائج یہ اشارہ دیتے ہیں کہ انتہائی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محکمہ کے اعداد و شمار محتاط انداز میں پیش کیے گئے ہو سکتے ہیں۔

 

 

دریافت کیجیے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر