امریکی فوج نے ہفتے کے روز مشرقی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر مہلک حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی (AFP) کے شمار کے مطابق، ستمبر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس جارحانہ مہم کے آغاز کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، امریکی سدرن کمانڈ نے کہا کہ یہ کشتی مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے مشہور راستوں پر سفر کر رہی تھی اور منشیات کی اسمگلنگ کی کارروائیوں میں ملوث تھی۔"
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ "اس کارروائی کے دوران تین مرد منشیات کے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
اس پوسٹ کے ساتھ جاری کی گئی بلیک اینڈ وائٹ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھلے سمندر میں موجود کشتی ایک زوردار دھماکے کی زد میں آ کر تباہ ہو گئی۔
امریکی فوج نے ستمبر کے اوائل میں آپریشن "سدرن اسپیئرکا آغاز کیا تھا جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ واشنگٹن عملی طور پر لاطینی امریکہ سے کام کرنے والے منشیات کے کارٹلز کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔
لیکن ان کی انتظامیہ نے اب تک ایسے حتمی شواہد فراہم نہیں کیے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ واقعی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ظاہری طور پر ان میں ایسے عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو امریکہ کے لیے کوئی فوری یا براہِ راست خطرہ نہیں تھے۔











