کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگیز نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ معاشی اقدامات کے ذریعے ہمارے ملک پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
روڈریگیز نے منگل کو ایکس پر کہا کہ امریکی حکومت اس بات کے اشارے دینے پر مُصر ہے کہ کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ ملک تباہ ہو چکا ہے اور اسے آزاد کرانا ایک اعزاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس میں مضحکہ خیز اور منافقانہ بات یہ ہے کہ امریکہ نے دہائیوں سے معاشی جنگ مسلط کر کے ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے اور گزشتہ دو مہینوں کے دوران اس حکومت نے دو نسل کش ایگزیکٹو آرڈرز کے نفاذ کے ذریعے یہ کام اور بھی زیادہ جوش کے ساتھ کیا ہے۔
روڈریگیز نے کہا کہ معاشی پابندیاں اور کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی دونوں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوں گی اور انہیں بین الاقوامی جرائم قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشی ناکہ بندی اور توانائی کے محاصرے کے ساتھ ساتھ نئی ماورائے سرحدی جابرانہ تدابیر ،فوجی حملے کی دھمکی اور خود جارحیت سب بین الاقوامی جرائم ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو اس بات کی تردید کی کہ واشنگٹن کیوبا پر تیل کی ناکہ بندی مسلط کر رہا ہے حالانکہ امریکہ نے کسی بھی ایسے ملک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جو اس جزیرہ نما ملک کو تیل فروخت کرے۔
روبیو نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ کیوبا پر فی الحال کوئی باقاعدہ تیل کی ناکہ بندی نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ کیوبا کی موجودہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے اور امریکہ اس کا حل نکالے گا۔






